ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فنانس ایکٹ 2026 جاری ، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف ، سوشل میڈیا آمدن پر ٹیکس

فنانس ایکٹ 2026 جاری ، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف ، سوشل میڈیا آمدن پر ٹیکس
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: ایف بی آر نے فنانس ایکٹ 2026 جاری کردیا ۔

یکم جولائی سے بجٹ 2026-27 پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ۔آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کردیا گیا ۔سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد بدستور انکم ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں گے۔دیگر سلیبز میں ٹیکس کی شرحوں میں ردوبدل کر کے متعدد ملازمین کو ریلیف دیا گیا ہے۔ انکم ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 35 فیصد برقرار ہے، تاہم درمیانی سلیبز میں ٹیکس کم کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا آمدن پر 5 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا ۔

یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز سے حاصل آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوگا ۔جائیداد کی خریداری کے لیے ایڈوانس ٹیکس 1.25 فیصد لاگو ہوگا ۔

جائیداد کی فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس2.75 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکسوں میں کمی کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا ۔جائیداد پر سیکشن ای 7 ٹیکس ختم کردیا گیا ۔کریڈٹ ، ڈیبٹ اور پری پیڈ کارڈ سے غیر ملکی ادائیگیوں پر ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے0.5 فیصد کر دیا گیا۔ 

بعض کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس کم کیا گیا ہے ۔برآمدی شعبے کو مزید رعایت دی گئی۔ 

50 کروڑ روپے تک آمدن رکھنے والے بیشتر کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، اس سے زیادہ آمدن پر شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کی گئی ہے۔ 

بعض مخصوص شعبوں، جیسے بینکاری، تیل و گیس اور کھاد، کے لیے الگ شرحیں برقرار ہیں۔20 کروڑ روپے تک سالانہ ٹرن اوور رکھنے والے مخصوص ریٹیل کاروباروں پر 1 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔

فارما، کھاد، چینی، سگریٹ، مشروبات، ڈیری اور دیگر شعبوں کے ڈسٹری بیوٹرز کے لیے 0.5 فیصد کم از کم ٹیکس لاگو ہوگا ۔2000 سی سی سے زائد درآمدی گاڑیوں پر 40 فیصد تک فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لاگو ہوگی ۔زیادہ قیمت والی درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 سے 40 فیصد تک ڈیوٹی لاگو ہوگی ۔آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات پر 0.25 فیصد رعایتی ٹیکس کی مدت میں توسیع کردی گئی ۔پاکستان میں آن لائن خدمات فراہم کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ٹیکس وصولی کا نیا نظام متعارف کرا دیا گیا 

ای۔انوائسنگ    ای۔انوائسنگ، ڈیجیٹل انٹیگریشن، بارکوڈ اور ٹیکس اسٹیمپ نظام مزید سخت کیا گیا۔ متعدد خام مال اور صنعتی اشیا پر کسٹمز، اضافی کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز میں کمی کردی گئی ۔مختلف مالیاتی اور کاروباری لین دین پر نان فائلرز کے لیے سخت شرائط برقرار رکھی گئی ہیں۔ 

ایف بی آر نے ریٹرن جمع نہ کرانے، نوٹس پر عمل نہ کرنے اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ میں مداخلت پر جرمانے سخت کر دیے ہیں۔ ایف بی آر کے ڈیجیٹل نظام سے عدم انضمام، ریٹرن جمع نہ کرانے یا دیگر خلاف ورزیوں پر جرمانوں اور سزاؤں میں اضافہ کردیا گیا ۔بعض خلاف ورزیوں پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ اور بار بار خلاف ورزی پر 20 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

بینکوں کو بھاری ٹرانزیکشنز کی رپورٹ پیش کرنے کا قانون لاگو ہوگا ۔6 ماہ میں 10 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز کرنے والے صارفین کا ریکارڈ فراہم کرنا ہوگا۔بینکوں اور کرنسی ایکسچینج کمپنیوں کو صارفین کا ڈیٹا اپ لوڈ کرنا ہوگا ۔سنٹرل ڈیٹا حب میں بینک صارفین کا ڈیٹا اپ لوڈ کیا جائے گا 

ایف بی آر الگورتھم کراس میچنگ کے لیے ڈیٹا کا استعمال کرے گا ۔بینکوں کو یکم جولائی سے 31 دسمبر تک کا ڈیٹا اپ لوڈ کرنا ہوگا ۔بینکوں کو یکم جنوری سے 31 جولائی تک کا ڈیٹا اپ لوڈ کرنا ہوگا ۔مشکوک ڈیٹا کو کمپلائنس رسک منیجمنٹ سسٹم کو بھیجا جائے گا ۔ایف بی آر بینکوں کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا کو خفیہ رکھنے کا پابند ہوگا 

اسلام آباد میں موٹر وہیکلز کے ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا ْ۔ایک ہزار سی سی کی گاڑی پر 20 ہزار روپے لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس لاگو ہوگا ۔ایک ہزار سے 2 ہزار سی سی کی گاڑی پر قیمت کا 0.25 فیصد سالانہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا ۔201 سے 25 سو سی سی کی گاڑی پر قیمت کا 0.35 فیصد ٹوکن ٹیکس لاگو ہوگا ۔2501 سی سی سے زائد کی گاڑی پر قیمت کا 0.35 فیصد ٹوکن ٹیکس لاگو ہوگا ۔ایف بی آر الیکٹرانک انوائسنگ سسٹم متعارف کرائے گا ۔نیشنل فیس لیگ سنٹر متعارف کرایا جائے گا ۔ایف بی آر پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرائے گا ۔الگو رتھم سیٹلمنٹ میکنزم متعارف کرایا جائے گا 

چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا ۔فکسڈ ٹیکس اسکیم کے تحت تاجروں کو 25 ہزار روپے سالانہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا ۔سالانہ 20 کروڑ روپے سے کم ٹرن اوور کے دکاندار اسکیم میں شامل ہو سکیں گے۔یکم جولائی سے لیٹ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے پر 25 ہزار روپے جرمانہ ہوگا ۔لیٹ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے پر حلف نامہ دے کر جرمانے سے بچا جا سکتا ہے ۔حلف نامے میں 6 ماہ تک پراپرٹی کی خریدو فروخت کرنے پر پابندی ہوگی۔