ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

زلزلے کے شدید جھٹکے

زلزلے کے شدید جھٹکے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42 : لاہور  سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں  زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا.

تفصیلات کے مطابق شہر لاہور میں 11 بجکر 39 منٹ پر زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 4.4 ریکارڈ  کی گئی ہے  اور زلزلہ کی گہرائی 14 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔زلزلے کا مرکز ساوتھ ویسٹ لاہور تھا۔

اس کے علاوہ قصور، اوکاڑہ، ننکانہ، شیخوپورہ سمیت دیگر شہروں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں. شہری دفاتر اور گھروں سے باہر نکل آئے۔

پنجاب بھر کی انتظامیہ عمارتوں کی چیکنگ میں مصروف ہے۔کسی بھی علاقے سے جانی و مالی نقصان کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ۔زلزلہ کے آفٹر شاکس سے نمٹنے کے لیے مشینری اور عملے کو الرٹ رکھا گیا ہے ۔

پی ڈی ایم اے کے پراونشل کنٹرول روم سمیت پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز 24/7 الرٹ ہیں۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق زلزلے سے نقصانات کی اطلاع پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر دی جا سکتی ہے۔

 زلزلے کیوں آتے ہیں؟

  زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔  

 زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔         کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔

زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔         پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔