سٹی42: علی امین کے استعفےکےعوامی مطالبے پر علی امین گندا کے ترجمان بیرسٹر سیف نے 'مری واقعے' کی وجہ سے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز سے استعفیٰ مانگ لیا۔
پی ٹی آئی کے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی بہت زیادہ بدنامی کا سبب بننے والی مری سانحہ عمران خان کی وزارتِ عظمیٰ عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ کے دوران جنوری 2022 میں پیش آیا تھا۔
سوات واقعے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے استعفےکے مطالبے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے جوابی استعفیٰ مانگتے مانگتے بیرسٹر سیف جنوری 2022 میں پہنچ گئے۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے جنوری 2022 میں تحریک انصاف ہی کی حکومت میں پیش آئے مری واقعے پر مریم نواز سے استعفیٰ مانگ لیا۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے میڈیا کیمروں ےک سامنے کہا، وہ جو مری میں برف میں 23 افراد جاں بحق ہوئے تھے اس پر بھی مریم کو استعفیٰ دینا چاہئے۔
درحقیقت یہ واقعہ عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ کے دوران جنوری 2022 میں پیش آیا تھا جہاں مری میں برف باری کےدوران سینکڑوں سیاح وفاقی دارالحکومت سے ایک گھنٹہ دوری پر واقع مصروف سڑک مری روڈ پر بے یار و مددگار اپنی گاڑیوں میں رات گزارنے پر مجبور ہوئے تھے اور شدید سردی میں اسلام آباد سے کوئی مدد نہ پہنچنے پر بے بسی کی حالت میں دنیا سے کوچ کرگئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق جس وقت مری میں قیامت ٹوٹی ہوئی تھی، وزیراعلیٰ عثمان بزدار پاکستان تحریک انصاف کےنام نہاد تنظیمی اجلاس میں بیٹھے ہوئے تھے۔
اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کی نا اہلی کا اعتراف کرنے کی بجائے مرنے والوں کو ہی ذم ہدار قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ لوگ بغیر موسم کا تعین کیے بڑی تعداد میں مری پہنچ گئے، غیر معمولی برفباری اور بڑی تعداد میں لوگوں کے سیاحتی مقامات کا رخ کرنا سانحہ مری کا باعث بنا۔
Shocked & upset at tragic deaths of tourists on road to Murree. Unprecedented snowfall & rush of ppl proceeding without checking weather conditions caught district admin unprepared. Have ordered inquiry & putting in place strong regulation to ensure prevention of such tragedies.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) January 8, 2022