ملک اشرف : پراپرٹی اونر شپ قانون کے تحت کی جانے والی کارروائیوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں مزید آئینی درخواستیں دائر کر دی گئی ہیں۔ عدالت عالیہ نے ابتدائی سماعت کے بعد ان درخواستوں کو فل بنچ کے روبرو سماعت کے لیے بھجوانے کی سفارش کر دی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے غلام رسول سمیت دیگر درخواست گزاروں کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ درخواست گزاروں نے پراپرٹی اونر شپ قانون کی مختلف شقوں کو آئینِ پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے چیلنج کر رکھا ہے۔درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مذکورہ قانون شہریوں کے حقِ ملکیت، حقِ سماعت اور منصفانہ ٹرائل جیسے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے، اس لیے اس قانون کے تحت کی جانے والی کارروائیاں غیر قانونی اور کالعدم قرار دی جائیں۔درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ پراپرٹی اونر شپ قانون کو آئین کے منافی قرار دے کر ختم کیا جائے۔دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے اس معاملے کی نوعیت اور اہم آئینی نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے قرار دیا کہ یہ معاملہ اہم قانونی اور آئینی تشریح کا متقاضی ہے، جس پر فل بنچ کے ذریعے سماعت ضروری ہے۔ عدالت نے درخواستوں کو فل بنچ میں پیش کرنے کی باقاعدہ سفارش کرتے ہوئے فائل متعلقہ بنچ کو بھجوا دی۔عدالتی حلقوں کے مطابق پراپرٹی اونر شپ قانون کے خلاف دائر درخواستوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ فل بنچ کی سماعت کے بعد اس قانون کے مستقبل سے متعلق اہم عدالتی فیصلے متوقع ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App