ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

قانون کے شعبے میں خواتین کی ترقی: جسٹس عائشہ اے ملک کا پیغام

تحریر: ملک اشرف

قانون کے شعبے میں خواتین کی ترقی: جسٹس عائشہ اے ملک کا پیغام
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سپریم کورٹ آف پاکستان میں پہلی خاتون جج ہونے کا اعزاز رکھنے والی جسٹس عائشہ اے ملک نے حال ہی میں خواتین میں قانون کے بین الاقوامی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے ایک طاقتور اور متاثر کن پیغام دیا کہ خواتین کی شمولیت نہ صرف عدالتی نظام کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے لازمی اور ضروری ہے۔جسٹس عائشہ نے اپنے خطاب میں قانون کے شعبے میں خواتین کی نمایاں کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں خواتین کو آئینی اور قانونی حقوق کی فراہمی ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔

 انہوں نے واضح کیا کہ خواتین وکلاء اور ججز نے اپنی محنت، قابلیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے عدالتی نظام میں اپنی جگہ مضبوط کی ہے، اور یہ مثال معاشرے کے لیے حوصلہ افزا ہے۔انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کا نظام خواتین کی شمولیت کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ عدالتوں اور قانونی پلیٹ فارمز میں خواتین کی موجودگی نہ صرف رہنمائی اور تربیت کے لیے ضروری ہے بلکہ قانونی شعور، معاشرتی انصاف اور سماجی ترقی کے فروغ میں بھی مددگار ہے۔

  جسٹس عائشہ نے Women in Law جیسے پلیٹ فارمز کو سراہا جو خواتین کو پیشہ ورانہ اور قانونی اعتبار سے بااختیار بنانے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔اپنے خطاب میں جسٹس عائشہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی نہ صرف عدلیہ کے معیار کو بلند کرتی ہے بلکہ معاشرت میں شفافیت، انصاف اور اعتماد کو فروغ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین جب قانونی شعبے میں بھرپور حصہ لیتی ہیں تو نہ صرف اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتی ہیں بلکہ پورے عدالتی نظام کو مضبوط اور فعال بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

 جسٹس عائشہ اے ملک کی مثال نوجوان خواتین وکلاء کے لیے رہنمائی اور تحریک کا ذریعہ ہے۔ ان کا پیغام واضح ہے: صنفی مساوات، قانونی حقوق اور مواقع کی فراہمی کے بغیر عدلیہ اور معاشرت مکمل نہیں ہو سکتی۔ ان کے خطاب نے نہ صرف خواتین وکلاء بلکہ معاشرت کے ہر فرد کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ خواتین کی شمولیت ہر شعبے میں لازمی ہے، چاہے وہ عدلیہ ہو، تعلیم ہو یا سماجی ترقی کے دیگر میدان۔سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج ہونے کے ناطے جسٹس عائشہ نے نہ صرف عدلیہ میں خواتین کے لیے دروازے کھولے بلکہ عملی طور پر یہ ثابت کیا کہ عزم، قابلیت اور حوصلے کے ذریعے خواتین ہر شعبے میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔

  ان کا یہ خطاب خواتین کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ معاشرتی شعور بڑھانے کا بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ جسٹس عائشہ اے ملک نہ صرف ایک کامیاب جج ہیں بلکہ خواتین کے لیے رول ماڈل اور قانون کے شعبے میں نئی راہیں کھولنے والی شخصیت بھی ہیں۔ ان کے خطاب اور کردار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خواتین کے لیے مساوی مواقع اور بااختیار ماحول فراہم کرنا عدلیہ اور معاشرت دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ ان کا پیغام ہر عورت، وکیل اور نوجوان نسل کے لیے تحریک اور رہنمائی کا روشن چراغ ہے۔