ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آئی جی نے پولیس فورس کو خیبرپختونخوا سے باہر جا کر ڈیوٹی کرنےسےمنع کردیا

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو آج "احتجاج کا اونٹ" لے کر پہاڑ نے نیچے آنے کا چیلنج درپیش، پولیس کا تحفظ حاصل نہیں ہوگا

 IG Police, Zulfaqar Hameed, IGP KPK, Chief minister, Suhail Afridi, City42, Adiala Jail, PTI Protest
کیپشن: خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل نے پولیس فورس کو خیبر پختونخوا سے باہر جا کر کوئی ڈیوٹی کرنے سے منع کر دیا ہے۔ اس حکم کا معنی یہ لیا جا رہا ہے کہ آج منگل کے روز خیبر پختنوخوا کے وزیر اعلیٰ کوئی جتھہ کے پر اڈیالہ جیل کی طرف آنا چاہین گے تو انہین پولیس کا تحفظ حاصل نہیں ہو گا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آج منگل کو پنجاب میں اڈیالہ جیل کے باہر آ کر احتجاج کرنے کے لئے سارے صونے سے اپنے کارکنوں اور حامیوں کو بلوا رکھا ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  عمران خان کے مقرر کردہ وزیراعلیٰ کو آج "احتجاج کا اونٹ" لے کر پہاڑ نے نیچے آنے کا چیلنج درپیش ہے۔ خیبر پختونخوا کی پولیس وزیراعلیٰ کے احتجاج کرنے والے جتھے کی حفاظت کرنے کے لئے اس کے ساتھ پنجاب نہیں آئے گی۔

پشاور ہائی کورٹ نے آج حکم جاری کیا کہ کوئی سرکاری ادارہ  پی ٹی آئی حکومت کی سیاسی سرگرمی میں استعمال نہیں ہو گا اور کسی ادارہ کے وسائل کو سیاسی سرگرمی میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔  پشاور ہائی کورٹ کے اس واضح حکم کے بعد خیبر پختونخوا پولیس کے انسپکٹر جنرل  ذوالفقار حمیدنے  اپنی فورس کو خصوصی ہدایت جاری کر دی ہے جس نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو سنگین نوعیت کے امتحان سے دوچار کر دیا ہے جنہوں نے آج منگل کے روز راولپنڈی میں اڈیالہ جیلل پر دھاوا بولنے کے لئے صوبے کے تمام گاؤں سے کارکن اور حامی بلوا رکھے ہیں۔

خیبرپختونخوا  پولیس کے انسپکٹر جنرل نے آج شام پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اپنی فورس کے لئے ہدایات جاری کر دیں۔

آئی جی خیبر پختونخوا نے ہدایت کی ہے کہ پولیس اہلکار صرف خیبر پختونخوا کے جغرافیائی دائرہ اختیار میں ہی فرائض انجام دے گی۔

آئی جی نے اپنی فورس کے دوسرے صوبوں یا علاقوں میں بلا اجازت ڈیوٹی پر جانے پر پابندی لگا دی ہے۔

ذوالفقار حمید نے پولیس فورس کو پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کا حکم دیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے اختیارات صوبے تک محدود  ہیں۔

آئی جی نے آج تمام ذیلی دفاتر کو بھیجے گئے مراسلہ مین واضح کیا ہے کہ قانونی دائرہ اختیار سے باہر کسی بھی کارروائی کو غیرقانونی سمجھا جائے گا۔

انسپکٹر جنرل ذوالفقار حمید نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا عندیہ دیا۔