سٹی42: اب پولیس کے قیدی کو اہل خانہ سے ملاقات کے لئے عدالتوں کے احکامات کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ گرفتار ، نظربند اور زیرحراست افراد سے تفتیش کا بل سینیٹ سے متفقہ طور پر منظور ہو گیا۔
اس مسودہِ قانون میں گرفتار ، نظربند اور زیرحراست افراد کو حقوق دینے سے متعلق ہ ترامیم پیش کی گئیں جن کو سینیٹ نے اتفاق رائے سے منطور کر لیا۔
سینئیر قانون دان، پیپلز پارٹی کے لیڈر اور سینیٹر فاروق نائیک نے یہ بل پیش کیا تھا۔ فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ اس بل کے مطابق گرفتار شخص کو گرفتاری کی وجوہات بتائی جائیں گی اور اس کو گرفتاری کی وجوہات کی تحریر فراہم کی جائے گی۔
گرفتار کئے گئے شخص کو وکلاء کی معاونت حاصل ہو گی۔
گرفتار یا حوالات میں کسی بھی وجہ سے قید شخص کو اپنے اہل خانہ سے ملاقات کرنے کی اجازت اور دوائیاں مل سکیں گی۔
فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ موجودہ قوانین کے تحت ابھی گرفتار افراد کو دوائیوں اور گھر کے کھانے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔
نئیے قانون کی قومی اسمبلی سے منطور اور نفاذ کے بعد اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے پولیس افسران کو جرمانہ ہوگا ۔