عید قرباں، موسمی قصائی بھی میدان میں آگئے


 ( علی رامے ) عید الاضحی آئی تو موسمی قصابوں کی بڑی تعداد شہر میں امڈ آئی، اناڑی قصائی بڑی بڑی چھریاں لے کر سڑکوں پر نکل آئے، مزدوروں کے ہاتھوں میں ہتھوڑا، کانڈی کی جگہ چھریوں اور ٹوکے نے لے لی۔

عید الاضحیٰ کے قریب آتے ہی قربانی کے جانوروں کی قیمتوں اور نخروں کے ساتھ قصائیوں کے معاوضے اور نخرے بھی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں کیونکہ یہی تو وہ سیزن ہے جس میں قصائیوں کی خوب چاندی ہوتی ہے، پروفیشل قصائیوں نے بھی آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں۔ قصائی نہ ملنے پر شہریوں کو پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، ایسے میں پلمبر، پینٹر، موٹر مکینک، رکشا ڈرائیور، سبزی اور پھل فروش بھی عید پر قصاب بن کردیہاڑی لگانے نکل پڑتے ہیں۔

ان موسمی قصائیوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کا اصل پیشہ ہے، اب کوئی شہری اناڑی قصائی کے جھانسے میں آ جائے تو پھر قربانی ایسے ہی ہوتی ہے۔

قصاب کی تلاش میں نکلے شہریوں کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے کہ آپ کو ایک پروفیشنل قصائی مل جائے۔

قصائیوں کے منہ مانگے دام طلب کرنے کی بڑی وجہ عید پر قربانی کی بہتات اور قصابوں کی قلت ہے، جس کی وجہ سے بہت سے اناڑی بھی قصاب کا روپ دھار لیتے ہیں۔