سٹی 42: پنجاب یونیورسٹی ٹاؤن تھری،انکوائری کمیٹی کی رپورٹ جمع کرلی گئی ۔
وی سی ڈاکٹرمحمدعلی کےحکم پربننےوالی انکوائری کمیٹی نےرپورٹ مکمل کرکےجمع کرائی ۔ کمیٹی نے اربوں کےمبینہ گھپلوں پریونیورسٹی انتظامیہ کوحکومتی اداروں سےمددلینےکی سفارش کی ۔کمیٹی کے مطابق یونیورسٹی یقینی بنائےکہ آئندہ ایساپراجیکٹ متعلقہ باڈیزکی منظوری کےبغیرشروع نہ ہو،پلاٹوں کے حتمی قبضے تک مینجمنٹ کمیٹی مکمل طور پر ذمہ دار رہے گی،یونیورسٹی انتظامیہ ٹاؤن تھری منصوبے کی نگرانی کرے۔ٹاؤن تھری کے ڈویلپر کے انتخاب کے لئے کسی قسم کا اشتہار نہیں دیا گیا،
رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹاؤن تھری کے ڈویلپر کے انتخاب کا عمل عدالتی کیسز کی ممکنہ وجہ بنا۔ٹاؤن تھری کی ڈویلپر کمپنیاں صرف اسی پراجیکٹ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر قائم ہوئیں۔ڈویلپر کمپنیوں نے اساتذہ کے رہائشی منصوبے کو مختلف پارٹیوں کو فروخت کیا۔ایسا کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ڈویلپر ایسے پراجیکٹس کرنے کے قابل نہیں تھا۔
ٹاؤن تھری کی ڈویلپر کمپنی میں ڈاکٹر اظہر نعیم کے بھائی ڈاکٹر وقار نعیم شامل ہیں ۔ڈویلپر کمپنی میں ڈاکٹر اظہر نعیم کے بھائی کا شامل ہونا مفادات کا ٹکراؤ ہے۔زمین کی خریدوفروخت کےکیے معاہدے ذاتی مفادات کی نشاندہی کرتےہیں،ٹاؤن تھری ممبران کو فائدہ پہنچائے بغیر اربوں کی کمرشل زمین ڈویلپر کو دی گئی۔ٹاؤن تھری کا پراجیکٹ چار سالوں میں مکمل ہونا تھا، پہلے چار سال میں ترقیاتی کاموں کا آغاز تک نہ ہو سکا۔آغازمیں زمین کی خریداری کیلئےسرکاری اکاؤنٹ سے مالکان کوادائیگی ہوئی۔بعدازاں کروڑوں روپےزمین مالکان کےبجائےڈویلپرکےاکاؤنٹ میں بھیجےگئےکمیٹی نے ٹاؤن تھری کے اکاؤنٹ کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی سفارش کر دی۔
کمیٹی کی کسی سرکاری تحقیقاتی ادارے سے ڈویلپر کے اکاؤنٹ کی بھی جانچ پڑتال کی سفارش کردی ۔ ایجنسیاں ڈویلپرکی جانب سےمینجمنٹ کمیٹی ارکان کوپیسےدینےپرتحقیقات کرسکتی ہیں،یونیورسٹی انتظامیہ متعلقہ سرکاری اداروں کوکارروائی کی درخواست کرے،محکمہ اینٹی کرپشن نے تحقیقاتی رپورٹ میں اربوں کی کرپشن کی نشاندہی کی،
نجی ہاوسنگ سکیم کے پاس موضع میں ایل ڈی اے کی ٹیکنیکل منظوری نہیں تھی، اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کے پاس پراجیکٹ شروع کرنے کا مینڈیٹ نہیں تھا۔
Stay tuned with 24 News HD Android App