ملک اشرف : پاکستان بار کونسل نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک میں نئے انتظامی یونٹس یا مزید صوبوں کے قیام سے متعلق دی گئی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے اسے بہتر طرزِ حکمرانی اور انتظامی اصلاحات کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔
وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیر مسعود چشتی نے سٹی نیوز نیٹ ورک سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ موجودہ حالات میں انتظامی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق اختیارات کی منصفانہ تقسیم جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے، جبکہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے انتظامی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پیر مسعود چشتی کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ملک کو درپیش انتظامی مسائل اور زمینی حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں، اس لیے نئے انتظامی یونٹس سے متعلق ان کی رائے اہمیت کی حامل ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے عوامی مسائل کے حل میں سہولت ملے گی، گورننس بہتر ہوگی، انتظامی نگرانی مؤثر بنے گی اور سروس ڈلیوری کے نظام میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ ان کے بقول مضبوط انتظامی ڈھانچہ دہشت گردی سمیت دیگر داخلی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے کہا کہ ادارہ ملک میں ایسے تمام اصلاحاتی اقدامات کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد نظام کو مؤثر بنانا، عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور ریاستی اداروں کی کارکردگی میں بہتری لانا ہو۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان بار کونسل قومی مفاد میں ہونے والی مثبت اصلاحات کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر بہتر حکمرانی، سہولیات اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔