ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بظاہر ایک عام سی عادت مگر شادی ٹوٹنے کی اہم وجہ

بظاہر ایک عام سی عادت مگر شادی ٹوٹنے کی اہم وجہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : بیشتر جوڑے ایک دوسرے سے تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد کام کرتے ہیں جیسے ایک دوسرے کے کاموں میں مدد وغیرہ مگر ایک بہت عام عادت باہمی تعلق کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے جس میں ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ کا شریک حیات 'دستیاب' نہیں۔

برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں فیبنگ نامی عادت کو جوڑوں کے باہمی تعلق کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ قرار دیا گیا۔ساؤتھ ہیمپٹن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جب کوئی فرد اپنے شریک حیات پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے اپنا زیادہ وقت موبائل فون میں گم ہو کر گزارتا ہے تو اس کے لیے فیبنگ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

اگر آپ میں بھی یہ عادت پائی جاتی ہے تو جان لیں کہ ایسا کرنے سے شریک حیات کے اندر وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس بڑھتا ہے کہ آپ کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔محققین نے بتایا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر فرد ہی فیبنگ کو جھنجھلا دینے والی عادت قرار دیتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بظاہر یہ عادت بہت معمولی نظر آتی ہے مگر شادی شدہ جوڑوں کے لیے اس طرح کے چھوٹے چھوٹے لمحات جمع ہوکر لوگوں کے اندر یہ احساس بڑھاتے ہیں کہ آپ کے شریک حیات کی توجہ کسی اور جانب مبذول ہے اور آپ اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جذباتی عدم تحفظ کے شکار افراد شریک حیات کی اس عادت سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔اس تحقیق میں 196 جوڑوں کو شامل کیا گیا اور انہیں 10 دن تک ڈائری لکھنے کی ہدایت کی گئی، جس میں انہیں لکھنا تھا کہ شریک حیات کس طرح موبائل فون کا استعمال کرتا ہے، وہ اس پر کیا محسوس کرتے ہیں، کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور اگر کوئی ردعمل ظاہر کرتے ہیں تو اس کی وجوہات کیا ہوتی ہیں۔

ان تحریروں سے ثابت ہوا کہ انزائٹی کے شکار افراد کی جانب سے فیبنگ کی عادت پر زیادہ سختی سے ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ جب شریک حیات کی جانب سے زیادہ وقت موبائل فون پر گزارا جاتا ہے تو انزائٹی کے شکار افراد زیادہ ڈپریس، کم خود اعتمادی اور دیگر مسائل کے شکار ہوتے ہیں۔

ایسے افراد کی جانب سے ردعمل میں فونز کو استعمال کیے جانے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے اور وہ دوستوں اور گھر والوں سے فیبنگ کی شکایت کرتے ہیں۔محققین کے مطابق ہم نے دریافت کیا کہ انزائٹی کے شکار افراد شریک حیات کی عدم دستیابی محسوس کرنے پر دیگر سے رابطہ مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس طرح کا ردعمل فوری سکون تو فراہم کرتا ہے مگر شریک حیات سے تعلق بتدریج خراب ہونے لگتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ درحقیقت فون پر گم رہنے کی عادت پرتشدد یا جسمانی طور پر نقصان نہیں پہنچاتی مگر پھر بھی یہ ایسی جارحیت ہے جو باہمی تعلق کو جذباتی طور پر تباہ کرتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل آف پرسنلٹی میں شائع ہوئے۔اس سے قبل اکتوبر 2023 میں ترکیہ کی Niğde Ömer Halisdemir یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ موجودہ عہد میں لوگ اسمارٹ فون پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں جس سے شریک حیات کو برا محسوس ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں 712 جوڑوں کو شامل کیا گیا تھا جن کی اوسط عمر 37 سال تھی۔تحقیق کے دوران دیکھا گیا کہ موبائل فون میں گم رہنے اور رشتے پر اطمینان کے درمیان کیا تعلق موجود ہے۔اس مقصد کے لیے ان جوڑوں سے تفصیلات حاصل کی گئیں اور ان سے سوالنامے بھروائے گئے تاکہ ان کی ذہنی صحت کا اندازہ ہوسکے اور یہ بھی معلوم ہو سکے کہ ان کی لوگوں سے بات چیت کی صلاحیت کتنی اچھی ہے اور کس حد تک موبائل فون ان کی زندگی کا حصہ ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ شوہر یا بیوی میں سے کوئی ایک جتنا زیادہ وقت موبائل فون پر گزارے گا، باہمی رشتہ اتنا زیادہ متاثر ہوگا۔تحقیق کے مطابق اب Phubbing کو کافی حد تک معاشرے نے قبول کرلیا ہے مگر پھر بھی شادی شدہ افراد کے لیے یہ تباہ کن عادت ہے۔

محققین نے بتایا کہ نظر انداز کیے جانے کا تصور لوگوں کو اچھا محسوس نہیں ہوتا اور اس کے نتیجے میں جوڑوں کے درمیان جھگڑے بڑھ جاتے ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کا شریک حیات توقعات پر پورا نہیں اتر رہا۔