سٹی42: آزاد کشمیر میں عوام کے حقوق کے نام پر تشدد اور افراتفری پھیلانے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کرتا دھرتا نام نہاد احتجاج کی ناکامی کے بعد تشدد پر اتر آئے۔ عوام کے نام سے بڑے بڑے دعوے کرنے والوں کا چہرہ بے نقاب ہو گیا۔
آزاد کشمیر کے عوام نے کئی ہفتوں کے پروپیگنڈا کو نطر انداز کر دیا اور آج 29 ستمبر کو" عوامی ایکشن کمیٹی" کے نام سے آزاد کشمیر میں بد امنی پھیلانے والے گروپ کا احتجاج مسترد کر دیا ۔
ذمہ دار صحافتی ذرائع کے مطابق احتجاج کی ناکامی پر عوامی ایکشن کمیٹی کے شر پسندوں نے پُر امن شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ہڑتال کروانے میں ناکامی کے بعد پُر تشدد مظاہرے کے دوران متعدد شہری زخمی ہوئے۔
ہڑتال کی ناکامی کی وجہ سے شر پسند عناصر نے عوام کو زبردستی ہڑتال میں شامل کرنے کی کوشش کی اور پرتشدد کارروائیاں شروع کردیں۔
مسلح شرپسند عناصر نے پرامن احتجاج کی ہدایت کو نظر انداز کر کے کاروبار جاری رکھنے والے شہریوں کو ڈرانے دھمکانے کے لئے اسلحے کا استعمال کیا۔
مظفر آباد میں امن مارچ پر فائرنگ، ایک شہید، 11 افراد زخمی
مظفر آباد میں صحافتی ذرائع کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسند عناصر کی فائرنگ کے نتیجے میں 11 شہری زخمی ہو گئے، جبکہ بٹل میں ایمبولینس کا راستہ روکے جانے کے باعث ایک بزرگ شہری محمد صادق فوت ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان نے نہ صرف سڑکیں بند کیں بلکہ پولیس اہلکاروں پر غلیلوں اور ہتھیاروں سے حملے بھی کیے۔ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ کمیٹی کے عزائم ابتدا سے ہی اشتعال انگیز اور پرتشدد تھے۔
علاقے کے عوام نے بزرگ شہری کی موت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا اور عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں زبردستی ہٹا دیں۔
ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی ریلیوں میں اشتہاری مجرمان بھی موجود ہیں، جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ شرپسندوں اور کمیٹی کے لیڈران کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
عوامی حلقوں نے کمیٹی کی ہلڑ بازی، توڑ پھوڑ اور درندگی کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے ہڑتال کی کال دی۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں افراتفری پھیلانے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، اور ان لوگوں کو ’را‘ کی جانب سے فنڈنگ کی جارہی ہے۔
مسلم کانفرنس کے امن مارچ پر شرپسندوں کا حملہ اور فائرنگ قابل مذمت ہے ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شرپسند بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور اپنے مذموم مقاصد کے لئے لاشوں کی سیاست کرنا چاہتے ہیں ۔ #AzadKashmir pic.twitter.com/o8MqmITuQI
— Dr Irfan Ashraf (@irfanashraf36) September 29, 2025
وفاقی وزرا کے ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے مذاکرات ناکام کیوں ہوئے
کچھ روز قبل وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر امور کشمیر امیر مقام اور طارق فضل چوہدری مظفرآباد پہنچے تھے جہاں انہوں نے ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے مذاکرات کیے، اور 38 میں سے 36 مطالبات تسلیم بھی کرلیے، لیکن اس کے باوجود ایکشن کمیٹی مذاکرات سے بھاگ گئی اور بات چیت کے عمل کو سبوتاژ کردیا۔
وفاقی وزرا کا ایکشن کمیٹی کے ساتھ جن دو نکات پر اتفاق رائے نہ ہو سکا ان میں ایک آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کا خاتمہ ہے، جبکہ دوسرا مطالبہ اشرافیہ کی مراعات کم کرنے سے متعلق ہے۔
اس سے قبل ایکشن کمیٹی نے گزشتہ برس بھی احتجاج کیا تھا جس کے نتیجے میں حکومت پاکستان نے مداخلت کرتے ہوئے 23 ارب روپے کی گرانٹ جاری کی تھی اور یوں آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔