ڈاکٹر یاسمین راشد کا نواز شریف کو مشورہ


بسام سلطان :لندن سے پاکستان کی سیاست میں متحرک ہونے پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے نواز شریف کو وطن واپسی کا مشورہ دے دیا۔کہتی ہیں نواز شریف کے میڈیکل بورڈ کی کارکردگی اور رپورٹس کے موقف پر آج بھی قائم ہوں، صوبائی وزیر صحت نے محکمہ صحت میں حکومت کی دو سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی۔

ایوان وزیر اعلیٰ میں پریس کانفرنس کے دوران نواز شریف کو واپس آنے کا مشورہ دیتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد  اپنے ہی وزرا کے بیان پر سخت سیخ پا نظر آئیں۔بار بار نواز شریف کی صحت بارے رپورٹس میں ٹیمپرنگ کے بیان پر کہنے لگیں کہ میرے وزرا کیا میڈیکل کالجز میں پڑھاتے ہیں؟میں نے میڈیکل کالجز میں پڑھا کر ڈاکٹرز ، بنائے ہیں ،جن پر پورا اعتماد حاصل ہے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ جب کورونا شروع ہوا تو صرف ایک لیب تھی ، اب پنجاب میں 18 جبکہ لاہور میں 8 لیبارٹریوں فعال ہیں۔ دس ہزار آکسیجن بیڈز اور 200 سے زائد ونٹیلیٹرز موجود ہیں ۔ محکمہ صحت میں خالی آسامیوں پر بھرتیاں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دو سال میں اب تک کی سب سے بڑی انجکشن کی گئی۔ 32 ہزار سے زائد افراد کو بطور ڈاکٹرز نرسز و پیرامیڈکس بھرتی کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گنگارام ہسپتال میں سب سے بڑا ماں بچہ 600 بستروں پر ہسپتال قائم کیا جا رہا یے۔ جو دسمبر 2021 میں مکمل فعال کر دیا جائے گا۔ قل سات کے قریب ماں بچہ ہسپتال قائم کئے جا رہے ہیں۔

صوبائی وزیر صحت نے مزید کہا کہ دوران علاج نواز شریف کے لیے جانے والے سیمپلز کا تمام ریکارڈ محفوظ ہے ہم کوشش کررہے ہیں کہ اداروں کو مضبوط کریں۔

یاد رہے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اے پی سی سے خطاب کے بعد حکومت ان کو واپس لانے کیلئے متحرک ہوگئی ہے،وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کو وطن واپس لاکر عدالت پیش کیا جائے گا، احتساب کا عمل بلاتفریق جاری رہے گا، اپوزیشن کواحساس ہوچکا ہے کہ این آر او نہیں ملے گا، اپوزیشن جماعتیں اپنے کیسز سے توجہ ہٹانے کیلئے اداروں کو متنازع بنارہی ہیں، حکومت اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گی،ان کو واپس لانے کا ٹاسک وزارت خارجہ اور ایف آئی اے کو ٹاسک سونپا گیا ہے۔