ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بہار الیکشن پر اثرانداز ہونے کیلئے بھارتی فوجی مشقیں، پاکستان ہمہ وقت تیار

Operation Tarsul, Pakistan India tension, Kachh area of Pakistan, Gujrat state, Rajisthan State, Behar State Election, City42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

وسیم عظمت:  بھارت کی فوج نے  بہار ریاستی اسمبلی کے الیکشن سے صرف چھ دن پہلے ہندوتوا کے پرچارک حکمران اتحاد کی مدد کرنے کے لئے پاکستان کی سرحد کے قریب نام نہاد فوجی مشقیں شروع کر کے کشیدگی کو ایک بار پھر ہوا دینا شروع کر دیا۔ نام نہاد  ’آپریشن ترشول‘  کے نام سے آج جمعرات کے روز شروع کی گئی جنگی مشقوں سے بھارت کی سینا  ریاست بہار کے الیکشن میں وزیراعظم نریندر مودی کو فائندہ پہنچانے کے لئے اپنی نمائشی طاقت کا رعب جھاڑے گی۔

یہ جنگی مشقیں پاکستان کی سرحد کے ساتھ ریاست گجرات اور اس سے اوپر ریاست راجستھان کے علاقوں میں کی جا رہی ہیں۔ ان کا مقصد جو بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے خود بتایا، وہ یہ ہے کہ سرکریک کے علاقہ(کچھ)  کو پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کا نیا پوائنٹ بنایا جائے۔ راج ناتھ سنگھ نے ان جنگی مشقوں سے پہلے یہ دھمکی دی کہ "اگر پاکستان نے گجرات کے سرکریک علاقہ میں ہندوستان کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو اس کا جواب تاریخ اور جغرافیہ دونوں کو بدل دے گا۔ "۔ راج ناتھ سنگھ کے اس دھمکی آمیز بیان کے پیچھے ان کا اور ساری بھارتی سینا کا خوف تھا جس کا اظہار خود انہوں نے کیا کہ پاکستان نے سرکریک کے متنازعہ علاقہ میں نئی فوجی چوکیاں بنائی ہیں اور اس علاقہ میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے فوجی موجودگی بڑھائی ہے۔ پاکستان کی دفاعی نوعیت کی موجودگی سے خوفزدہ بھارت نے اب نام نہاد   فوجی دراصل نمائشی  مشق ’آپریشن ترشول‘ کا انعقاد کر کے گجرات اور راجستھان میں اپنے فوجیوں کا خوف کم کرنے کی کوشش کی ہے جو چھ مئی سے دس مئی کے دوران پاکستان کے غصیلے جواب کے بعد سے ہر وقت اس خوف میں جکڑے رہتے ہیں کہ دہلی سے کچھ ناپسندیدہ حرکت کر دی گئی تو پاکستان کے لازماً غصیلےجواب کا خمیازہ سرحدوں پر موجود جوانوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

آپریشن ترشول کو لے کر بھارت کے میڈیا میں چلائی گئی پروپیگنڈا کیمپین میں" کچھ"کے علاقے کو  پاکستان کے ساتھ ممکنہ نئی کشیدگی کے مقام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

نام نہاد آپریشن ترشول، بنیادی طور پر   بھارت کی تینوں فوجوں کی مشترکہ سہ فریقی فوجی مشق ہے جو آج۔ 30 اکتوبر سے 10 نومبر تک چلے گی۔  بھارت نے جمعرات کو ترشول کے آغاز کے ساتھ اپنے فوجی دستوں کو  حساس سرحدی علاقہ میں متحرک کیا۔ 

پاکستان کی سرحد پر اس  12 روزہ، سہ فریقی فوجی مشق سے پہلے  چھ ماہ قبل بھارت کی فوج نے " آپریشن سندھ "کے پروپیگنڈا عنوان کے ساتھ ایک ایسی ہی جنگی مشق کی تھی۔

اس نام نہاد مشق کے بعد بھارت  کی ائیر فورس نے پنجاب اور آزاد کشمیر کے چھ علاقوں میں مِس ایڈوینچر کیا جس کا فوری نتیجہ ایک گھنٹے میں 7 جنگی طیاروں کی تباہی کی صورت میں نکلا اور بعد میں  10 مئی کو پاکستانی ہوائی اڈوں پر میزائل مارنے کی سزا دیتے ہوئے پاکستان نے بھارت کے ائیر ڈیفینس کو دہلی تک ادھیڑ کر رکھ دیا تھا اور S400 ائیر ڈیفینس بیٹریوں سمیت  درجنوں اڈے تباہ و برباد کر دیئے تھے جن میں بھارتی فوج کے مایہ ناز براہموس میزائل ذخیرہ کرنے کے کئی ڈپو بھی شامل تھی۔

ان ڈپوؤں میں رکھے گئے درجنوں براہموس میزائل وہاں پڑے پڑے کی فنا ہو گئے اور  "محفوظ"   مقامات پر بنائے گئے یہ ڈپو براہموس میزائلوں کا شمشان گھاٹ بن گئے تھے۔ پاکستان کی سائبر فورس نے بھارت کے انٹر نیٹ، خلائی سیارے، حتیٰ کہ بجلی کی ترسیل نے نظام کا جو حشر کیا وہ الگ سے ایک عبرت کی داستان ہے جسے بھارت کے بچے بڑے سب جانتے ہیں۔ 

اس جنگ کے دوران بھارت کی سینا نے  نام نہاد "آپریشن سندھ "  جنگی مشق میں سیکھے ہوئے کسی جنگی تجربے کو کام میں لانے کی جرات نہیں کی تھی۔ اب آپریشن ترشول کے پروپیگنڈا نام سے  پاکستان کی سرحد کے قریب کی جا رہی مشقوں کا  بھی بھارت کو کوئی عملی فائدہ ہونے کی کوئی امید نہیں۔

پاکستانی سرحد کے ساتھ گجرات اور راجستھان میں کی جا رہی تینوں بھارتی فوجوں کی مشترکہ مشقوں کا مقصد بظاہر کچھ بھی بتایا جا رہا ہو، ان کا فوری اثر بھارت کے اندر پاکستانی سرحد سے بہت دور واقع ریاست بہار کے ریاستی الیکشن پر ڈالنا مقصود ہے۔

ان مشقوں کا دورانیہ  یکم نومبر سے 12 نومبر تک رکھا گیا ہے۔ بہار میں ریاستی اسمبلی کا الیکشن 6  نومبر اور 11 نومبر کو دو مرحلوں میں ہو گا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی تاریخ یہ ہے کہ وہ بھارت کے اندر ہندو مذہب پرست ووٹروں کی ہمدردیاں کھینچنے کے لئے پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو ہوا دیتی ہے۔ جب پاکستان کے ساتھ کشیدگی بھارتی میڈیا میں موضوع بنتی ہے تو بہت سے ہندو مذہب پرست ووٹر اپنے اصل مسائل کو بھول کر پاکستان کے خلاف چیخ و پکار کرنے کی ماہر بھارتیہ جنتا پارٹی کی  خراب گورننس اور دوسرے ایشوز کو فراموش کر کے ایک بار پھر اسی کو ووٹ دے دیتے ہیں۔ 

بہار کے ریاستی الیکشن سے پہلے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایسا ہی پلان کیا لیکن جب  6 مئی کو اس نے اپنے پلان پر عمل کیا تو پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا ایسا دندان شکن جواب دیا کہ  دانتوں کے ساتھ آنکھ ناک بھی پھوڑ ڈالے اور نریندر مودی اپنی احمقانہ جارحیت سے بھارت کی فوج کا بھارت کے اندر بھرم تڑوا بیٹھے۔  چھ مئی کے مِس ایڈوینچر کا بہار کے عوام پر کیا اثر ہوا، یہ  12 نومبر سے شروع ہونے والی ووٹوں کی گنتی میں سامنے آ جائے گا لیکن اس سے پہلے بھارت کی مِس ایڈونچرز کی عادی حکومت چھ مئی اور دس مئی والی ذلت سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ترشول مشق کے دوران کچھ  بڑی حماقت بھی کر سکتی ہے۔


بھارتی میڈیا کے مطابق ہندوستان نے جمعرات (30 اکتوبر) سے پاکستانی سرحد کے پاس اپنی سب سے بڑی مشترکہ فوجی مشق ’ترشول‘ کی شروعات کر دی ہے۔ یہ ٹرائی-سروس (بری، بحریہ، اور فضائیہ) مشق آئندہ ماہ 10 نومبر تک جاری رہے گی۔ واضح رہے کہ ’آپریشن سندور‘ کے 6 ماہ بعد یہ ہندوستان کی پہلی فوجی مشق ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق اس فوجی مشق کا مقصد پاکستان کو یہ واضح پیغام دینا ہے کہ ہندوستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مکمل طور سے تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر آپریشن سندور کا اگلا مرحلہ وہیں سے شروع کر سکتا ہے، جہاں رواں سال مئی میں رک گیا تھا۔
 
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس فوجی مشق میں تینوں افواج کے جدید ترین ہتھیار اور کمانڈو یوٹنس حصہ لے رہے ہیں۔
بری فوج: ٹی-90 جنگی ٹینک، برہموس میزائل یونٹ، اور آکاش فضاعی دفاعی نظام۔
فضائیہ: رافیل اور سکھوئی-30 جیسے فائٹر جیٹس، ساتھ ہی سی گارڈین اور ہیران ڈرون۔
بحریہ: کولکاتا کلاس ڈسٹرائر، نیل گیری کلاس فریگیٹس اور تیز حملہ کرنے والے جہاز۔
اس کے علاوہ ہندوستانی فوج کی پیرا ایس ایف، بحریہ کی میرین کمانڈو یونٹ اور فضائیہ کی گروڈ کمانڈو فورس بھی اس مشق میں حصہ لے رہی ہیں۔

پاکستان کیا کرے گا

پاکستان ان غیر معمولی جنگی مشقوں کو لے کر کچھ بھی غیر معمولی نہیں کر رہا، پاکستان نےبھارت کی کسی بھی حماقت کا جواب دینے کے لئے تیاری پہلے سے کر رکھی ہے اور مزید کسی تیاری کی کوئی جرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔ بھارت نے کسی بھی وجہ سے کوئی بھی معومولی سی ہی حرکت کی تو اسے اس کا جواب معمولی سا نہین ملے گا۔ یہ بات پاکستان کی طرف سے اعلیٰ ترین سطح پر سمجھائی جا چکی ہے۔

پاکستان نے سرکریک علاقوں میں نئی فوجی چوکیاں، بنکر، رڈار اور ڈرون لانچ بیس (ایف او بی ایس) تیار کیے ہیں، اور بھارت کی ان علاقوں مین ہر معمولی حرکت پر بھی پاکستان کی گہری نظر ہے۔
 یہ فوجی مشق شروع ہونے سے قبل ہی پاکستان نے اپنی فضائی حدود کے کئی حصوں کو بند کر دیا ہے۔ پاکستان کی ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک نوٹم (نوٹس ٹو ایئر مین) جاری کر کے  وسطی اور جنوبی ہوائی راستوں پر 48 گھنٹوں کی پرواز پر پابندی عائد کر دی ہے۔؎اس  احتیاط کا مقصد صرف سویلین فلائٹس کو ضروری تحفظ فراہم کرنا تھا۔

فوجی سطح پر پاکستان کی طرف سے نام نہاد آپریشن ترشول کو کسی غیر معمولی ردعمل کے قابل نہیں سمجھا جا رہا۔  کیونکہ تمام ضروری تیاریاں پہلے سے ہی مکمل ہیں۔