ویب ڈیسک: امریکی آٹو کمپنی فورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جم فارلے نے کہا ہے کہ کمپنی آئندہ پانچ سے دس سال کے دوران چینی گاڑی ساز کمپنیوں کی امریکی مارکیٹ میں ممکنہ آمد کے لیے تیاری کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ امریکا نے چینی گاڑیوں پر سخت تجارتی پابندیاں اور بلند ٹیرف عائد کر رکھے ہیں، پھر بھی مستقبل میں چینی کمپنیوں کا داخلہ خارج از امکان نہیں۔
جم فارلے نے کمپنی کے ملازمین سے گفتگو میں کہا کہ امکان زیادہ ہے کہ چینی گاڑی ساز کمپنیاں اس مدت کے آخری برسوں میں امریکی مارکیٹ میں قدم رکھیں گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چینی کمپنیوں، خصوصاً الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے کم لاگت اور جدید ٹیکنالوجی کے باعث عالمی سطح پر سخت مقابلہ پیدا کر دیا ہے۔
فورڈ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے نئی اور نسبتاً سستی الیکٹرک گاڑیوں کی ایک سیریز متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے، جسے لاگت اور کارکردگی کے لحاظ سے چینی کمپنیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ چینی گاڑیوں کی فروخت پر پابندی مزید سخت کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس وقت امریکا چینی الیکٹرک گاڑیوں پر تقریباً 100 فیصد ٹیرف عائد کیے ہوئے ہے، جبکہ قومی سلامتی اور ڈیٹا سیکیورٹی کے خدشات کے باعث چینی سافٹ ویئر اور ہارڈویئر سے متعلق بھی سخت ضوابط نافذ ہیں۔
دوسری جانب چینی گاڑی ساز کمپنیاں میکسیکو اور کینیڈا میں اپنی موجودگی بڑھا رہی ہیں، جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ کینیڈا مستقبل میں امریکی مارکیٹ میں داخلے کے لیے ایک اہم آزمائشی مرکز ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے مقابلے کے پیش نظر فورڈ نے یورپ میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے حال ہی میں چین کی معروف کمپنی جیلی کے ساتھ مشترکہ منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے۔