سٹی 42: پمز آتشزدگی سانحے کے بعد ہسپتال انتظامیہ کی غفلت سے متعلق مزید اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں، 2018 سے پمز انتظامیہ کو جاری کیے گئے فائر سیفٹی نوٹسز کا ریکارڈ منظرعام پر آگیا۔
دستاویزات کے مطابق کیپٹل فائر سروسز کی جانب سے پمز میں فائر سیفٹی نظام کی ناقص صورتحال پر مسلسل انتباہ کیا جاتا رہا، جبکہ انتظامیہ کو 5 لاکھ روپے جرمانے اور عمارت سیل کرنے کی وارننگز بھی دی گئیں۔ فائر سیفٹی ونگ نے 15 فروری 2018 کو پمز انتظامیہ کو تفصیلی فائر آڈٹ رپورٹ ارسال کرتے ہوئے حفاظتی خامیوں کو فوری دور کرنے کی ہدایت کی۔
ریکارڈ کے مطابق 17 مئی 2018 اور 2 جولائی 2019 کو بھی فائر سیفٹی کمپلائنس اور پری انسپکشن سے متعلق نوٹسز جاری کیے گئے دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ 8 جون 2023 کو پمز کے لیے ہیزرڈ الرٹ جاری کیا گیا، جس میں بند ایمرجنسی راستوں اور کھلی وائرنگ سمیت مختلف حفاظتی خطرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔
اسی طرح 9 مئی 2024 کو فائر سیفٹی پلان اور فائر ڈرلز یقینی بنانے کے لیے پمز انتظامیہ کو 3 ماہ کی حتمی مہلت دی گئی دستاویزات کے مطابق 10 نومبر 2025 کے حتمی نوٹس میں حفاظتی اقدامات نہ کرنے کو دانستہ غفلت قرار دیا گیا تھا۔
فائر سروسز نے پمز انتظامیہ کو واضح طور پر متنبہ کیا تھا کہ کسی بھی سانحے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری ہسپتال انتظامیہ پر عائد ہوگی ریکارڈ کے مطابق تمام وارننگ نوٹسز پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کو موصول کرائے گئے، جبکہ وزارت صحت، کیڈ، ایم سی آئی اور سی ڈی اے حکام کو بھی نوٹسز کی نقول ارسال کی گئی تھیں۔
دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پمز میں فائر سیفٹی سے متعلق سنگین خامیوں کی نشاندہی کئی سال قبل ہی کردی گئی تھی، تاہم حفاظتی اقدامات پر مؤثر عملدرآمد نہ ہوسکا۔