ویب ڈیسک : آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک بڑے سیاسی دھچکے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس نے پارٹی چھوڑنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تین انتخابی حلقوں سے پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر سردار تنویر الیاس شدید ناراض ہیں اور انہوں نے اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے قریبی ساتھیوں سے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، سردار تنویر الیاس نے وسطی باغ، پاچھیوٹ اور اپر نیلم سے پارٹی ٹکٹ طلب کیے تھے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نیلم اور پاچھیوٹ سے ٹکٹ دینے پر آمادہ تھی، تاہم وسطی باغ سے سردار ضیاء القمر کو امیدوار نامزد کرنے کی خواہاں تھی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں وسطی باغ سے ٹکٹ دینے پر اتفاق ہو گیا تھا، تاہم آخری مرحلے میں معاملات طے نہ پا سکے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی منظوری سے جاری امیدواروں کی حتمی فہرست میں سردار تنویر الیاس کو کسی بھی حلقے سے پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق، حلقوں کے انتخاب اور ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات، ٹکٹ نہ ملنے کی بڑی وجہ قرار دیے جا رہے ہیں۔ اگر ضلع باغ سمیت مطلوبہ حلقوں سے پارٹی ٹکٹ نہ ملا تو سردار تنویر الیاس کے پیپلز پارٹی چھوڑنے کا امکان ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی نے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کو دوبارہ شمولیت کی پیشکش کر رکھی ہے۔ یاد رہے کہ وزارت عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد وہ استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوئے تھے، تاہم بعد ازاں اسے چھوڑ کر پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں شمولیت اختیار کی تھی۔
سیاسی حلقوں کی نظریں اب سردار تنویر الیاس کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں، جبکہ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے جلد اہم اعلان متوقع ہے۔