راؤ دلشاد: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پیرا فورس کی کارکردگی اور اصلاحات سے متعلق مختلف فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیرا فورس کی کارروائیوں کو مانیٹر کرنے کے لیے ڈیجیٹل ریکوزیشن سسٹم کو لازمی قرار دیا جائے گا تاکہ تمام اقدامات کو شفاف اور منظم انداز میں ریکارڈ کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے "آسک پیر" پورٹل کو مزید فعال بنایا جائے اور ڈی جی پیرا کو براہِ راست عوامی رابطہ اور پبلک انٹرایکشن بڑھانے کی بھی ہدایت دی گئی۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے اہلکاروں کے لیے پیرا فورس میں کوئی جگہ نہیں ہوگی اور ادارے کی گڈ ول پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیرا فورس کی ہر کارروائی عوام دوست ہونی چاہیے اور تمام اقدامات رولز کے مطابق انجام دیے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اینٹی انکروچمنٹ کارروائی سے قبل نوٹس دینا اور شہریوں کو پیشگی آگاہ کرنا لازمی ہوگا۔
اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ اینٹی انکروچمنٹ اور پرائس کنٹرول کے علاوہ ہر کارروائی کے لیے پیشگی ڈیجیٹل ریکوزیشن ضروری ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قانونی کارروائی کے دوران مزاحمت کے کلچر کو ختم کیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ انویسٹی گیشن افسر کے تبادلے اب کسی سفارش پر نہیں کیے جائیں گے۔ پیرا فورس کو مزید منظم اور پیشہ ور بنانے کے لیے کلر کہار میں ٹریننگ اکیڈمی پر کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔