ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایمی ایوارڈ یافتہ صحافی کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ مستقل طور پر بند

 ایمی ایوارڈ یافتہ صحافی کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ مستقل طور پر بند
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: ایمی ایوارڈ یافتہ فلسطینی صحافی بسان عودہ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

 بسان عودہ کے ٹک ٹاک پر 14 لاکھ فالوورز تھے اور وہ گزشتہ 4 برسوں سے اس پلیٹ فارم پر غزہ کی صورتحال دنیا کے سامنے لا رہی تھیں۔

بسان عودہ، جو الجزیرہ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم AJ+ سے وابستہ ہیں، نے بدھ کے روز انسٹاگرام اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ویڈیو پیغام میں بتایا کہ ان کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ اچانک ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ٹک ٹاک نے میرا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا، میں سمجھ رہی تھی کہ شاید پابندی لگے گی، مگر مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا، یہ توقع نہیں تھی۔

الجزیرہ کی جانب سے ٹک ٹاک سے بسان عودہ کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت طلب کی گئی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آسٹریلیا میں وہی صارف نام رکھنے والا اکاؤنٹ نظر آیا، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں یہ اکاؤنٹ دستیاب نہیں تھا، جس سے علاقائی پابندیوں کے شبے کو تقویت ملی ہے۔

 بسان عودہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے گزشتہ بیانات اور ٹک ٹاک امریکا کے نئے سی ای او ایڈم پریسر کے خیالات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پابندی انہی عوامل کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔

نیتن یاہو نے گزشتہ برس نیویارک میں پرو اسرائیلی انفلوئنسرز سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹک ٹاک ’جدید جنگ کا اہم ہتھیار‘ ہے۔

ایڈم پریسر کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ٹک ٹاک پر بعض اصطلاحات، جن میں ’صہیونیت‘ بھی شامل ہے، کو نفرت انگیز مواد کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز مواد کی نگرانی ایک مسلسل عمل ہے۔

بسان عودہ غزہ سے روزانہ ویڈیوز پوسٹ کرنے کے باعث عالمی سطح پر پہچانی جاتی ہیں، جن کا مشہور جملہ تھا:’یہ بسان ہے، غزہ سے، اور میں اب بھی زندہ ہوں۔‘