ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پمز سانحہ، وزیراعظم کا 8 ذمہ دار افراد کو فوری معطل کرکے فوجداری کارروائی کا حکم

پمز سانحہ، وزیراعظم کا 8 ذمہ دار افراد کو فوری معطل کرکے فوجداری کارروائی کا حکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42:  وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی۔ وزیراعظم نے رپورٹ میں نشاندہی کیے گئے 8 افراد کو فوری معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم نے ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز فوجداری کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں، واقعے کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

عبوری رپورٹ کے مطابق ذمہ دار قرار دیے گئے افراد میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پمز کی سیکیورٹی پر مامور کمپنی اور اس کے عہدیداران کے خلاف بھی کارروائی کی منظوری دے دی، جبکہ جن افسران کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے ان کی جگہ نئے افسران کی فوری اور یکمشت تعیناتی کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان، سی ای او نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس میں آتشزدگی کے تقریباً دو منٹ پر محیط واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ آگ لگنے اور پورا وارڈ جلنے میں صرف دو منٹ کا وقت لگا ابتدائی تحقیقات کے مطابق پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا تربیتی نظام موجود نہیں تھا۔ ہسپتال کے 13 ایس او پیز میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر پایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت سپروائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا، جبکہ وارڈ میں دو نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ہاؤس آفیسر موجود تھے بریفنگ میں بتایا گیا کہ آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال کی گئی، جبکہ پہلا ایمرجنسی رسپانس 15 منٹ بعد پہنچا۔

تحقیقاتی کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیونیٹل وارڈ میں فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا، جبکہ وارڈ میں آگ سے متعلق عالمی ادارہ صحت کے قواعد کی بھی خلاف ورزی پائی گئی  سپتال میں آگ جیسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوئی مخصوص افسر موجود نہیں تھا اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، تاہم اس کے بعد ہسپتال میں حفاظتی اقدامات کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک نومولود کو بچانے والی نرس کیلئے ستارہ خدمت دینے کی منظوری دے دی وزیراعظم نے وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کچھ ہی دیر میں وزارت قومی صحت کی ویب سائٹ پر جاری کردی جائے گی۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ معصوم بچوں کی موت ایک اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے، بچوں کے والدین کے ساتھ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں۔

وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کو مزید تفصیلی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔