ویب ڈیسک: پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں ایک خطرناک فراڈ تیزی سے پھیل رہا ہے، جس میں جعلساز مفت سم کارڈ یا جعلی مالی امدادی اسکیموں کا جھانسہ دے کر شہریوں کے فنگر پرنٹس اور بائیومیٹرک ڈیٹا چرا رہے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق یہ گروہ خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں، جن سے مفت سم یا امدادی پیکیج کے بہانے حساس معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ اس ڈیٹا سے جعلی سمیں جاری کر کے مالی دھوکہ دہی، شناخت کی چوری اور دیگر جرائم کیے جا رہے ہیں۔
اتھارٹی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی غیر مصدقہ شخص یا ادارے کے ساتھ اپنی بائیومیٹرک معلومات یا شناختی ڈیٹا ہرگز شیئر نہ کریں، کیونکہ اپنے نام پر جاری سم کسی دوسرے کو دینا قابلِ سزا جرم ہے۔
پی ٹی اے نے میٹا اور تعلیمی اداروں کے اشتراک سے ایک آگاہی مہم بھی شروع کی ہے تاکہ عوام کو آن لائن فراڈ، جعلی اشتہارات اور ڈیجیٹل دھوکہ دہی سے بچنے کے طریقوں سے آگاہ کیا جا سکے۔
چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ عوامی شعور میں اضافہ ہی آن لائن جرائم سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہے، جبکہ میٹا پاکستان کی ہیڈ آف پبلک پالیسی دانیا مختار کے مطابق جعلی اکاؤنٹس اور فراڈرز کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، تاہم عوامی آگاہی ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔