سٹی42: پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے ٹریفک کا نظام سدھارنے کے لئے ٹریفک پولیس کو کئی مرتبہ سخت وارننگ دینے کے بعد دیڈ لائن دے دی اور کہا، ٹریفک پولیس کو آخری موقع ہے، کارکردگی نہ دکھائی تو نیا محکمہ بنانا پڑے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے لاہور میں ٹریفک کی بدنظی دور کرنے اور سڑکوں پر حالات میں بہتری لانے کے لیےٹریفک پولیس کو 30 دن کی ڈیڈ لائن دے دی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں ٹریفک کے جدید نظام کی منصوبہ بندی، روڈ سیفٹی اور نظم و نسق پر بریفنگ دی گئی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا، لاہور اور پنجاب کے تمام شہروں میں ٹریفک کےانتظام کو بہتر کرنا پڑے گا۔ کوئی امتیاز نہیں رکھا جائے گا۔ خلاف ورزی پر ہر شخص کو جرمانہ کرنا پڑے گا اور ہر شہری کو جرمانہ دینا بھی پڑے گا۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ٹھوس لہجے میں بتایا، ٹریفک پولیس کو آخری موقع دے رہی ہوں۔ کارکردگی نہ دکھائی تو نیا ڈپارٹمنٹ بنانا پڑے گا۔ میں نے ہر چیز ٹھیک کر دی مگر ٹریفک کا برا حال ہے۔ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور بے ہنگم ٹریفک ریاستی رٹ کمزور ہونے کے مترادف ہے۔
چیف منسٹر کے لئے بریفنگ میں بتایا گیا کہ لاہور میں ٹریفک کی صورتحال میں بہتری کے لیے 30 دن کی فیصلہ کن ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 60 سال پرانے ٹریفک ایکٹ میں 20 بڑی اصلاحات کی گئی ہیں۔ اب پنجاب میں اگر کسی گاڑی کا بار بار چالان ہو گا تو گاڑی قبضہ میں لے کر نیلام کر دی جائے گی۔ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی سرکاری گاڑیوں کو بھی بھاری جرمانہ ہو گا۔ پنجاب میں ون وے کی خلاف ورزی ختم کرنے کے لیے 30 دن کی مہلت دی گئی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ کم عمر بچوں کا ڈرائیونگ کرنا ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن کریک ڈاؤن ہو گا۔ انڈر ایج ڈرائیونگ کی صورت میں گاڑی کے قانونی مالک کو 6 ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ بس کی چھت پر سواریاں بٹھانے والوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن ہو گا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ لاہور کی 5 ماڈل سڑکوں پر چنگ چی رکشوں کے آنے پر مکمل پابندی ہو گی۔ ہر میرج ہال کو اپنے مہمانوں کے لئے پارکنگ کا انتظام کرنا ہوگا۔ مناسب پارکنگ نہیں ہوگی تو میرج ہال بھی نہیں ہوگا۔