ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کی واپسی کے عمل میں صوبائی حکومتوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائیگا؛ وزیر داخلہ

افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کی واپسی کے عمل میں صوبائی حکومتوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائیگا؛ وزیر داخلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کو 31 مارچ تک رضاکارانہ طور پر پاکستان چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ محسن نقوی نے واپسی کے عمل کے دوران غیر ملکیوں سے اچھے برتاؤ کی ہدایت کی ہے۔ 

وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کی واپسی کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کی وطن واپسی کے سلسلے میں لیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ 

محسن نقوی نے اجلاس سے گفتگو میں کہا کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کا پروگرام (IFRP) 1 نومبر 2023 سے جاری ہے اور اس پروگرام کے دوسرے مرحلے میں افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کو 31 مارچ تک رضاکارانہ طور پر پاکستان چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔  انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے مابین افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کی واپسی پر عمل درآمد کے حوالے سے مسلسل رابطہ ہے، واپسی کے عمل میں صوبائی حکومتوں کو وفاق کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

اجلاس میں چیف سیکریٹریز اور آئی جیز نے افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کی واپسی کے حوالے سے لیے گئے اقدامات کے متعلق وزیر داخلہ کو آگاہ کیا، بتایا گیا کہ افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کی واپسی کے ضمن میں تمام تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں، واپسی کے سلسلے میں گھر گھر جا کر افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کی میپنگ پر کام مکمل کی جا چکا ہے۔ واپس جانے والوں کیلیے ہولڈنگ سینٹرز، خوراک اور صحت کی دیکھ بھال کے انتظامات بھی کیے جا چکے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر مملکت طلال چوہدری صوبوں کا دورہ  کریں گے تاکہ واپسی کے عمل میں پیش آنے والے مسائل کا ازالہ کیا جا سکے۔ محسن نقوی نے واپسی کے عمل کے دوران غیر ملکیوں سے اچھے برتاؤ کی ہدایت کی۔ 

 اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری کشمیر افیئرز و سیفران، تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز، آئی جیز، ڈی جی ایف آئی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈی سی اسلام آباد، کوآرڈینیٹر نیشنل ایکشن پلان، وزارت خارجہ، وزارت قانون اور سیکیورٹی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔