سٹی42: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے مختلف قومی اور صوبائی امور پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آئی ہیں، جن کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ بانیانِ پاکستان کی اولادوں کے حوالے سے حکومتی ارکان کا رویہ مناسب نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی نیک نامی متاثر ہو رہی ہے اور جہاں بھی نظر ڈالی جائے وہاں کرپشن کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
علی خورشیدی نے کہا کہ 2029 کے انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر جماعت چاہتی ہے کہ وزیراعظم کا منصب اسے ملے، تاہم ان کے پاس اس وقت وزیراعظم کے امیدوار کا کوئی نام نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں سندھ کی اہم سیاسی جماعتیں ہیں اور انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول، جب بھی سندھ سے وزیراعظم بنتا ہے تو شہری علاقوں کے ووٹوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور ان کے بغیر سیاسی نظام مؤثر انداز میں نہیں چل سکتا۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اگر سندھ بہتر ہوگا تو پاکستان بھی بہتر ہوگا، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو باہمی احترام اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔