معروف قانون دان اے کے ڈوگر کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

معروف قانون دان اے کے ڈوگر کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

(ملک اشرف)معروف قانون دان عبداللہ ڈوگر المعروف اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کی نماز جٓنازہ ادا کردی گئی، نماز جنازہ میں سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مامون الرشید شیخ، وکلاء اور رشتہ داروں سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔

معروف قانون دان اے کے ڈوگر کی نمازہ جنازہ میاں میر پنڈ گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔ نمازہ جنازہ میں سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس شیخ مامون رشید سمیت وکلا ، جج صاحبان اور عزیزو اقارب نے شرکت کی۔ نماز جنازہ حافظ طلحہ سعید نے پڑھائی۔

نمازہ جنازہ میں سابق لارڈ مئیر کرنل ریٹائرڈ مبشر جاوید، سابق صدر ہائیکورٹ بار انور کمال آیڈوکیٹ، ارشد نذیر مرزا ، مبشر رحمان ایڈوکیٹ ، چویدری اسحاق گوجر ایڈوکیٹ ،سابق ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ملک عظیم ،سابق سیکرٹری ہائیکورٹ بار ارشد ملک اعوان ، نجف مزمل خان ایڈوکیٹ سابق سیکرٹری فنانس ہائیکورٹ بار رائے محمد نواز کھرل بھی شریک ہوئے۔ مرحوم کو سوگواروں کی موجودگی میں میاں میر قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔مرحوم سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ مامون رشید شیخ کے سسر تھے,مرحوم کچھ عرصہ سے علیل تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن انتقال کرگئے تھے،جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن شدید علیل تھے اور کراچی کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن جماعت اسلامی پاکستان کے چوتھے امیرتھے، اگست 1941 ء میں دہلی میں پیدا ہوئے، تقسیم برصغیر کے بعد ان کے خاندان نے پاکستان کو اپنے مسکن کے طور پر چنا اور کراچی منتقل ہوئے۔

مارچ 2009ء میں سدل منور حسن جماعت اسلامی پاکستان کے چوتھے امیر منتخب ہوئے، ان سے قبل جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی، میاں طفیل محمد اور قاضی حسین احمد نے جماعت اسلامی کی امارت کی ذمہ داری سنبھالی، آپ 2009ءسے 2014ء تک جماعت اسلامی پاکستان کے امیر رہے-

قبل ازیں ملک کی مشہور شخصیت ماہرے اقتصادیات،سنئیر ترین سیاستدان اور سابقہ وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن 98 سال کی عمر میں وفات پاگئے تھے،سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن 22 جنوری 1922 کو پانی پت، ہریانہ، پنجاب، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی اور سول انجینئری میں گریجویشن کی ڈگری پائی، 1950 میں وہ امریکا چلے گئے اور آئیووا اسٹیٹ یونیورسٹی،امریکا (Iowa State University)سے سول انجینئری میں ماسٹر کیا۔

1965 میں پاک بھارت جنگ نے ڈاکٹر مبشر حسن کی فکری نہج کو ایک نئی راہ دی اور 1967 میں ان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا،انہوں نے ایک سیاسی منشور بعنوان "A Declaration of Unity of People"شائع کروایا، جو مشرقی پاکستان میں ٹیکنو ڈیموکریٹک سوشلزم کی حمایت میں لکھا گیا تھا، اس دوران میں وہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں انجینئیرنگ فزکس پر لیکچر دے رہے تھے۔