راؤ دلشاد:لاہور میں 53 پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیموں کی سیوریج ڈسپوزل ڈیزائن کے بغیر منظوری دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق واسا لاہور سے منظوری حاصل کیے بغیر 28 ہزار 791 کنال رقبے پر ہاؤسنگ سکیمیں قائم کی گئیں۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام متعلقہ ہاؤسنگ سکیموں کے سیوریج ڈسپوزل ڈیزائن کی جانچ 15 روز میں مکمل کی جائے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2022-23 کے دوران واسا لاہور میں رولز کی خلاف ورزی سے متعلق اعتراضات سامنے آئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سیوریج ڈسپوزل ڈیزائن موجود نہ ہونے کے باعث گندا پانی براہ راست کھلے ماحول یا پبلک سیوریج سسٹم میں خارج ہوتا رہا۔
واسا کے مؤقف کے مطابق بعض ہاؤسنگ سکیموں کو ماحولیاتی ضوابط اور ویسٹ واٹر ڈسپوزل پالیسی کے برعکس منظوری دی گئی، تاہم آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ تکنیکی منظوری این او سی جاری ہونے کے بعد دی گئی اور اس کی ذمہ داری واسا کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایس ڈی اے سی اجلاس میں معاملہ واسا کو منتقل کرتے ہوئے سیوریج ڈیزائن اور ڈرائنگز کی تصدیق کی ہدایت کی گئی۔ واسا کی جانب سے 53 این او سیز دوبارہ جمع کروائے گئے، تاہم آڈٹ کا مؤقف تھا کہ یہ این او سیز پہلے ہی جانچے جا چکے تھے۔
آڈٹ نے اعتراض برقرار رکھتے ہوئے معاملہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کو بھجوانے کی سفارش کر دی۔ حتمی فیصلہ کمیٹی کرے گی، جبکہ ذمہ داروں کا تعین کرنے کا اختیار بھی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے پاس ہوگا۔
آڈٹ رپورٹ میں آئندہ کے لیے سفارش کی گئی ہے کہ ہاؤسنگ سکیموں کے سیوریج ڈسپوزل ڈیزائن کی پیشگی منظوری اور مؤثر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے۔