اشرف خان: اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 30 جولائی کو ہوگا، ٹاپ لائن ریسرچ نے مانیٹری پالیسی پر سروے رپورٹ جاری کردی ۔
پالیسی کمیٹی اہم معاشی اعداوشمار کا جائزہ لے گی، 56 فیصد کی رائے میں شرح سود 50 سے 100 بیسز پوائنٹس تک کمی کی توقعات، 37 فیصد کی رائے میں شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کی توقع، سروے کے مطابق پچھلی مانیٹری پالیسی میں شرح سود 11 فیصد پر ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ ہوا تھا۔
کراچی چیمبر کے صدر جاوید بلوانی نے شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ کردیا۔
سروے کے مطابق مالی سال 26 میں مہنگائی کی اوسط شرح 5 سے 7 فیصد رہنے کی توقعات ہیں ، جبکہ جولائی 25 میں مہنگائی کی شرح 3 سے 3.50 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
ایسوسی ایشن آف بلڈز اینڈ ڈیلوپرز چئیرمین حسن بخشی نے شرح سود 11 فیصد سے کم کرکے 9 فیصد کرنے کا مطالبہ کیاہے۔کہا ہے کہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا سارگ ہی تعمیرات و ہاوسنگ کے شعبے کو بحال کیا جاسکے گا
سروے رپورٹ کے مطابق سروے میں 51 فیصد کی رائے میں دسمبر 25 تک ڈالر 285 سے 290 روپے کے درمیان رہے گا۔ بزنس مین کا کہنا ہے کہ دینا بھر کی معیشت ترقی کے لئے شرح سود کم کررہی ہیں۔ اگر پاکستان میں بھی کمی ہوئی تو اس سے معیشت کو ہی فائدہ ہوگا ۔