ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عمران خان کی طبعیت خراب ہوئی،ہسپتال پہنچایا اور اہلخانہ کو پتا نہیں،راجا ناصر عباس

عمران خان کی طبعیت خراب ہوئی،ہسپتال پہنچایا اور اہلخانہ کو پتا نہیں،راجا ناصر عباس
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور اپوزیشن اتحاد کے رہنما راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ  ہمیں پی ٹی آئی کے بانی کی صحت کے متعلق تشویش ہے۔  پتہ چلا ہے کہ عمران خان کی جیل مین طبعیت خڑاب ہوئی، ان کو ہسپتال لایاگیا لیکن ان کے اہل خانہ کو اس معاملہ کی اطلاع تک نہیں دی گئی۔
  اپوزیشن اتحاد کے رہنما راجا ناصر عباس نے اسلام آباد میں  پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجا  کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبریں چل رہی ہیں کہ عمران خان کو ہسپتال لایا گیا اور پارٹی کو نہیں پتا، ان کی فیملی کو بھی نہیں پتا۔   اس سب کا انہیں جواب دینا پڑے گا۔ ایسا نہیں ہوگا کہ آپ ظلم کریں اور جواب نہ دینا پڑے۔
  بیرسٹر گوہر  نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ عمران خان سے ہماری آخری ملاقات 20 دسمبر کو ہوئی تھی، آج تک ہمیں ملاقات کرنے کے لئے نہیں کہا گیا، ہم نے پٹیشن بھی دائر کی لیکن ملاقات کی اجازت نہ مل سکی، ایک نیوز پیپر میں رپورٹ ہوا کہ عمران خان کو اسپتال لایا گیا اور پھر جیل واپس لایا گیا، اس بات سے پارٹی اور فیملی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے کیوںکہ آج تک یہ نہیں بتایا جارہا کہ کس بیماری کی وجہ سے لایا گیا؟ اس عمل کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہاآپ  لوگ اپنی طاقت بڑھانے کے لئے آئین میں تبدیلی کر رہے ہیں۔   8 فروری تک ملاقات نہ روکیں۔  ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آج نہیں تو کل تک بانی سے ہماری ملاقات کروائی جائے۔

 راجا ناصر عباس نے کہا کہ 8 فروری کو عوام نے آپ کو  ٹھکرایا تھا۔  عوام نے ہر رکاوٹ کو گرا دیا۔ عمران خان اگر آج باہر ہوتے ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بورڈ ہی نہ بنتا۔ جب غزہ کے عوام چیخ رہےتھے تب آپ ان کی مدد کے لیے نہیں گئے۔ آپ سمجھتے تھے کہ نشان چھین لیں گے اور کارنر میٹنگ نہیں کرنے دیں گے، عوام نے جو آپ کے ساتھ کیا وہ آپ نے دیکھا۔  سیاسی بحران 8 فروری کے الیکشن سے پیدا ہوا۔ بے روزگاری بڑھی ہے۔ کسانوں کا نقصان ہوا ہے۔ اسی لئے ہم نے 8 فروری کو یوم سیاہ کا اعلان کیا ہے۔

 سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان اور بشری بی بی سے ملاقاتیں نہیں ہو رہیں۔ یہ قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے ذاتی معالج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہم نے پٹیشن دائر کی ہے ملاقاتوں کیلئے،  آج ہمیں پتہ چلا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پٹیشن کو سائیڈ پر کر دیا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان کو ذاتی معالج اور فیملی ممبرز کو ان سے ملنے دیا جائے، یہ ایک ایسا عمل ہے جو ظلم پر مبنی ہے۔انہوں نے مزید کہ ہو سکتا ہے کہ سیاست کو بھی دفن کر دیا جائے، ہم نے کوئی ایسا کام نہیں کرنا جو آئین اور قانون کے خلاف ہو۔  ہم یہی کہہ رہے ہیں کہ اپنی بے زاری کا اظہار کریں۔