ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب میں تاریخ کا بدترین سیلاب: راوی ، چناب اور ستلج بپھر گئے، 2 لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی

پنجاب میں تاریخ کا بدترین سیلاب: راوی ، چناب اور ستلج بپھر گئے، 2 لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پنجاب اس وقت شدید ترین سیلابی صورتحال سے دوچار ہے، دریائے راوی، ستلج اور چناب میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں جبکہ ہزاروں ایکڑ پر مشتمل فصلیں دریا برد ہو چکی ہیں۔

دریائے ستلج میں بہاولنگر کے ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کی آمد 1,09,305 کیوسک تک پہنچ گئی۔سیلابی ریلے کے باعث دو درجن سے زائد عارضی بند ٹوٹ گئے۔ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ، دریا زمینی کٹاؤ کے ساتھ آبادیوں میں داخل۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اپنے بچوں، جانوروں اور سامان کے ساتھ بڑی مشکل سے نکلے ہیں، کسی نے مدد نہیں کی۔
شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1,55,000 کیوسک تک پہنچ گیا جبکہ آئندہ 12 گھنٹوں میں 2 لاکھ کیوسک تک جانے کا خدشہ ہے۔لاہور کے علاقے مانگا منڈی، نول، جھگیاں، واڑہ عبداللہ شدید متاثر ہوئے ہیں۔پاک فوج، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ فیلڈ میں موجود، ریلیف آپریشن جاری ہے۔
نارووال میں  دریائے راوی کے جسڑ مقام پر 1,66,000 کیوسک اور نالہ بسنتر میں 8,000 کیوسک کا بہاؤ ہے۔ رینالہ خورد میں  دریا کے قریب علاقوں میں فوج اور ریسکیو ادارے انخلاء میں مصروف ہیں۔ سیلابی ریلے سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ، زمیندار شدید متاثر ہوئے ہیں۔
قبولہ، پاکپتن، عارف والا میں خطرناک صورتحال سے دوچار ہیں۔ قبولہ اراضی دلاور، نورا رتھ سمیت کئی دیہات خالی کروا لیے گئے۔ پاکپتن میں دریا زمینی کٹاؤ کرتے ہوئے آبادیوں سے ٹکرا رہا ہے جبکہ  عارف والا میں ایک لاکھ کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، انخلاء کا عمل تیز کر دیا گیا۔
 دریائے چناب میں  ہیڈ قادر آباد اور خانکی پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ قادرآباد پر پانی کا بہاؤ 996,000 کیوسک جبکہ اس کی صلاحیت صرف 800,000 کیوسک ہے جس کے باعث بند ٹوٹنے کا خطرہ ہے۔خانکی میں 859,000 کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے اور درجنوں دیہات زیرآب، فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔
 ریلیف اور ریسکیو اپڈیٹس میں  263 فلڈ ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ جہاں خوراک اور علاج کی سہولت دی جا رہی ہے۔24 گھنٹوں میں 365 ریسکیو آپریشنز، 57,745 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ریلیف کمشنر نبیل جاوید کا کہنا ہے کہ  تمام افسران فیلڈ میں موجود رہیں، عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
بھارت کی جانب سے اضافی پانی چھوڑے جانے کے بعد صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے 24 سے 48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔
 اُنہوں نے عوام کو ہدایت دیتے ہوئے کہاہے کہ  دریا کے کنارے اور نشیبی علاقوں سے فوری انخلاء کریں۔ریلیف کیمپوں میں رجسٹریشن کروائیں، گھروں میں رکنا خطرناک ہو سکتا ہے اور سیروتفریح یا ویڈیو بنانے کے لیے دریاؤں کے قریب ہرگز نہ جائیں۔