سٹی 42 : جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے بھارتی مندوب کو کرارا جواب دے دیا۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نہیں بلکہ سب سے بڑی جھوٹ فیکٹری ہے، بھارت واحد ملک ہے جو اندرون و بیرونِ ملک ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کو پالیسی کے طور پر اپنائے ہوئے ہے، بھارتی پراکسیز ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ نے پاکستان میں ہزاروں بے گناہوں کی جان لی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قربانیاں عالمی برادری تسلیم کرتی ہے، ہمیں بھارت سے دہشت گردی پر لیکچر کی ضرورت نہیں۔
پاکستانی قونصلر نے کہاکہ پہلگام واقعے پر پاکستان کا مطالبہ، آزاد اور شفاف تحقیقات کی جائیں، بھارت کے پاس چھپانے کو بہت کچھ ہے،بھارت نے مئی 2025 میں پاکستان پر بلاجواز جارحیت کی، بے گناہ مرد، عورتیں اور بچے شہید ہوئے، پاکستان نے جنگ سے پہلے، دوران اور بعد میں ذمہ دارانہ رویہ اپنایا تاکہ شہری و ڈھانچے متاثر نہ ہوں، بھارتی جنگی مہم جوئی ناکام ہوئی، غرور کا بلبلہ پھٹ گیا، فوجی طاقت کا افسانہ بکھر گیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھارت کا مکروہ کردار اور پانی کو ہتھیار بنانے کی سازش ظاہر کرتی ہے، آر ایس ایس ۔بی جے پی حکومت کے تحت بھارت میں اقلیتوں پر ظلم ریاستی پالیسی بن چکا ہے، گجرات، دہلی اور منی پور کے واقعات بھارت کے خون آلود ریکارڈ کے گواہ ہیں۔
پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے کہاکہ بھارت میں اسلاموفوبیا قانون، سیاست اور میڈیا میں ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکا ہے، بھارت ہمسایوں کو ڈراتا ہے، پراکسیز کو فنڈ کرتا ہے، علاقائی امن کو سبوتاژ کرتا ہے، جموں و کشمیر بھارت کا حصہ کبھی نہیں تھا اور نہ ہے، سلامتی کونسل کی قراردادیں واضح ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے کشمیر میں 9 لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں، جعلی مقابلے، گمشدگیاں اور اجتماعی قبریں معمول ہیں، اگست 2019 کے بعد بھارت نے غیرقانونی آبادیاتی انجینئرنگ سے کشمیریوں کی ڈیموگرافی بدلنے کی کوشش کی۔
صائمہ سلیم نے کہاکہ پاکستان پرامن بقائے باہمی کا حامی ہے مگر جارحیت مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا، آپریشن "بنیان المرصوص" بھارتی مہم جوئی پر پاکستان کا تاریخی جواب تھا، پاکستان بھارت کی منافقت، قبضے اور جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتا رہے گا، کشمیری عوام انصاف، وقار اور آزادی کے حقدار ہیں، ایک دن ضرور آزاد ہوں گے۔