"ٹکراؤ اور تصادم کی فضا پیدا کرنا سلیکٹڈ حکومت کی ضرورت ہے"


ماڈل ٹاؤن (عمرا سلم) صدر مسلم لیگ (ن) میاں محمد شہباز شریف کی رہائشگاہ پر سینئر رہنماؤں کا اجلاس، سیاسی صورتحال اور شہبازشریف کی 28 ستمبر تک عبوری ضمانت کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

 اجلاس میں خواجہ آصف، احسن اقبال،سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناءاللہ مریم اورنگزیب، عطاءاللہ تارڑ سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی، اپنے خطاب میں میاں شہبازشریف کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ناکام ہو چکی ہے، اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے نیب نیازی گٹھ جوڑ کے ذریعے سیاسی مخالفین کیخلاف کارروائیاں کر رہی ہے جبکہ عمران نیازی انہیں گرفتار کروانا چاہتے ہیں۔سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا تھاکہ اب حکومت کو منہ توڑ جواب دیں گے۔

علاوہ ازیں شہبازشریف نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف کی تقریر آئین اور قانون کے مطابق تھی، عمران خان مجھے گرفتار کروانا چاہتے ہیں، سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے تقریر میں کسی ٹکراؤ اور تصادم کی بات نہیں کی، ان کی تقریر آئین اور قانون کے مطابق تھی، ٹکراؤ اور تصادم کی فضا پیدا کرنا سلیکٹڈ حکومت کی ضرورت ہے، اڑھائی سال میں حکومتی سیاسی انتقامی کارروائی بے نقاب ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہاکہ عدالتوں کے فیصلے نیب نیازی گٹھ جوڑ کے سیاسی انتقام کی تصدیق کرتے ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب کے ادارے کا قانونی مینڈیٹ ختم ہوچکا ہے۔

شہبازشریف نے کہا کہ عمران خان مجھے گرفتار کروانا چاہتے ہیں، میرا ضمیر مطمئن اور دامن صاف ہے، میرے فیصلوں سے قوم کے ایک ہزار ارب کی بچت کی، میرے فیصلوں سے میرے بچوں اور خاندان کے کاروبار کو اربوں روپے کا نقصان ہوا اور اللہ تعالی کا کرم ہے کہ چین اور برطانیہ کی حکومتوں نے بھی ہماری ایمانداری کی گواہی دی