سوشل میڈیا پر جنسی ہراسگی کے واقعات میں اضافہ

(عرفان ملک)فیس بک، یو ٹیوب، واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا پر خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعات بڑھنے لگے ۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں درج مقدمات میں ساٹھ فیصد سے زائد واقعات خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے رپورٹ ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس (سوشل میڈیا) پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے،سوشل میڈیا جنسی ہراسانی کا آلہ کار بننے لگا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے مرد وخواتین کوجنسی ہراساں کرنے کے واقعات بڑھنے لگے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ جنسی ہراسانی کا شکار ہونے والے انتہائی اقدام اٹھانے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں خواتین کو بازاروں، دفاتر، پبلک ٹرانسپورٹ میں دوران سفر اور دیگر عوامی مقامات میں مختلف طریقوں سے ہراساں کیے جانے کے واقعات عام ہیں۔ خواتین کو چھونے، ان پر آوازیں کسنے، راستہ روکنے سمیت متعدد طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ ایسے افسوسناک واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہوتا جارہا ہے۔ آج کل نوجوان راہ چلتی خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان حالات میں خواتین کاگھروں سے باہر نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ریکارڈ کے مطابق انعامات کا لالچ دیکر کر لوٹنے یا بینک فراڈ کے ذریعے لاکھوں روپے سے محروم کر نے سمیت آن لائن فراڈ کے واقعات دوسرے نمبر پر رہے، اسی طرح مذہبی منافرت کے واقعات پر درج مقدمات تیسرے نمبر پر رہے۔ ایف آئی اے سائبر کرائم کو رواں سال اٹھارہ ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں ، ایف آئی اے سائبر کرائم کی کارکردگی مایوس کن رہی اور صرف ایک سو چودہ مقدمات درج ہو سکے۔

سینکڑوں نہیں ہزاروں درخواستیں ایف آئی اے سابیر کرائم ونگ کی الماریوں کی زینت بن کر رہ گئیں اور سائلین اپنی درخواستوں پر کاروائی کے لیے خوار ہونے لگے ہیں۔