سٹی 42: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان ملاقات ہوئی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ہر پاکستانی تشویش میں مبتلا ہے اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے معاملات کے پرامن حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی، تاہم ثالثی اسی صورت ممکن ہوتی ہے جب دونوں فریق اس پر رضامند ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک اور مسئلہ کشمیر کے وسیع تر مفاد میں تمام متعلقہ فریقوں کو کردار ادا کرنا چاہیے، لیکن حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات نہیں کیے گئے جن کے مثبت نتائج سامنے آتے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں اور حکومت کی ذمہ داریاں اور مؤقف مختلف ہوتے ہیں، اس لیے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امن کو موقع نہ دیا گیا تو ایسی خلیج پیدا ہو سکتی ہے جسے پُر کرنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملک میں امن قائم نہ ہوا تو دنیا کو پاکستان کا کیا پیغام جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ تمام مذاکرات اور بات چیت پاکستان کے آئینی اور قانونی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ہی ہونی چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے امید ظاہر کی کہ جاری کوششیں کامیاب ہوں گی اور ملک میں امن و استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گی۔