ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فائرسیفٹی اقدامات مکمل نہ کرنےوالی عمارتیں سیل ہوں گی ؛ وزیر اعلیٰ مریم نواز کا حکم

گلبر گ ہوٹل آگ؛ جاں بحق افراد کو فی کس 1 کروڑ دینے کا اعلان

فائرسیفٹی اقدامات مکمل نہ کرنےوالی عمارتیں سیل ہوں گی ؛ وزیر اعلیٰ مریم نواز کا حکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: فائرسیفٹی اقدامات مکمل نہ کرنےوالی عمارتیں سیل کرنےکاحکم جاری کردیا گیا ۔ 

وزیراعلی مریم نوازشریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا جس میں  آتشزدگی کے واقعات سے بچاؤ کے لئے اہم فیصلے کیے گئے ۔ 
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف  نے ویڈیو لنک پر کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرزسے خطاب کیا اوراہم احکامات جاری کیے
9ڈویژن کے 1197مقامات پر واٹر ہائیڈرنٹ نصب کرنے کی ہدایت  کی ۔ ریسکیو 1122میں نیا فائر انسپکٹوریٹ یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ آتشزدگی کے سدباب کیلئے جدید ترین ہائی ایکسپنشن فون جنریٹرکے استعمال کا فیصلہ کیا گیا ۔ بڑی عمارتوں میں سموگ ڈیکٹیٹر،سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا حکم دیا گیا ۔ فرسٹ ایڈ اورآکسیجن سلنڈر بھی بڑی کمرشل عمارتوں میں لازمی قرار  دیا ۔ کیمیکل،گتا،کپڑا اورسلنڈر وغیرہ کی مارکیٹ میں آتشزدگی سے نمٹنے کیلئے سپیشلائزڈ ٹریننگ کا فیصلہ  کیا گیا ۔ ہر ملٹی سٹوری بلڈنگ میں واٹر ہائیڈرنٹ نصب کرنے کا حکم دے دیا۔ایمرجنسی انخلاء کیلئے ہر عمارت میں بیرونی حصے میں ہوادار سڑھیاں لازمی قرار دیں ۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی واٹر ہائیڈرنٹ کے نرخ لاک کرنے کی ہدایت کی ۔ 
لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ سمیت گنجان مارکیٹوں میں تجاوزات اوررکاوٹیں ختم کرنے کی ہدایت کردی ۔ تمام اضلاع میں ہر ماہ آتشزدگی کی تیاری کیلئے فرضی مشقیں کرنے کی ہدایت کی ۔ نجی اورسرکاری بلڈنگ میں آگ بجانے والے آلات کی موجودگی لازمی قرار،ایکسپائری چیک کرنے کی ہدایت کردی ۔ ہدایات پر عمل نہ کرنے پر بلڈنگ سیل،مالکان کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔ 
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی فائر سیفٹی اقدامات پر فوری عملدر آمد شروع کرنے کی ہدایت کردی ۔ فائر سیفٹی ڈرل کا باقاعدہ انعقاد کمشنرز اورڈپٹی کمشنرز کے کے پی آئیز میں شامل ہے ۔ 

مریم نواز نے کہا گل پلازہ سانحہ پر افسوس ہے،دکھ کی گھڑی میں حکومت سندھ،کراچی کے عوام اورسوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ گل پلازہ سانحہ پر پنجاب ہر قسم کی معاونت اورتعاون کرنے کیلئے تیار ہے۔لاہور میں آتشزدگی کے وقت ہوٹل کی 25منزلہ عمارت میں 300افراد موجود تھے۔ لاہورمیں بہت بڑی ٹریجڈی رونما ہونے سے بچنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ بروقت ایس او پیز کی تشکیل اورعملدر آمد کی وجہ سے تباہی سے بچ گئے،300لوگوں کا مطلب 300خاندان ہے۔ریسکیو ٹیمیں اورڈی جی ریسکیو ڈاکٹر رضوان خود پانچ منٹ میں موقع پر پہنچ گئے،سب کو شاباش۔کمرشل عمارتوں میں ایمرجنسی خارجی راستوں کاغلط استعمال انتہائی افسوسناک ہے۔ہوٹل کی عمارت کے بیسمنٹ میں بھی آتشزدگی کے وقت بہت سے لوگ موجود تھے۔ہوٹل کی عمارت میں آتشزدگی کے سدباب اورلوگوں کے بروقت انخلاء کے آپریشن کی سیف سٹی کیمرے سے مانیٹرنگ کی۔منسٹر انرجی اورچیف سیکرٹری سمیت دیگرافسران بھی فوری طورپر پہنچ گئے۔آتشزدگی واقعہ میں پوری ٹیم نے فلڈ آپریشن کی طرح ایک یونٹ بن کر کام کیا۔
آتشزدگی سے بچاؤ کیلئے ضروری قواعدو ضوابط کو ہر دن فالو کرنا ہوگا۔ فائر سیفٹی اقدمات پر عملدرآمد کیلئے دکھاوے کی حد تک کام نہیں رہنا چاہیے۔ریسکیو 1122بہت اہم ادارہ ہے،درکار آلات،کپیسٹی بلڈنگ اورٹریننگ کیلئے وسائل مہیا کریں گے۔ہوٹل میں تباہی قریبی فائر ہائیڈرنٹ آپریشنل ہونے کی وجہ سے ٹل گئی۔آگ بجانے کیلئے ہائی ایکسپنشن فون جنریٹرجیسی جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال میں لائی گئی۔ہوٹل مالکان سانحہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کو زرتلافی ایک کروڑ روپے فی کس زرتلافی ادا کریں۔
ریسکیو اداروں کی بروقت کارروائی قابل تحسین ہے،رسپانس ٹائم اچھا تھا،پورے پنجاب میں یہی رسپانس ٹائم ہونا چاہیے۔ڈویلپمنٹ اتھارٹی بلڈنگ کی تعمیر کے دوران سیفٹی ریگولیشن کا نفاذ یقینی بنائیں۔ہر عمارت میں فائر سیفٹی آلات موجود بلکہ فنکشنل بھی ہوں۔بدقسمتی سے جنریٹر،تیل اورپلاسٹک وغیرہ اوردیگر آتشزدگی مٹیریل ایک ہی جگہ سٹور ہوتے ہیں۔تمام مارکٹیوں کے داخلی اورخارجی راستوں پربالخصوص تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر انسپکشن کی تصاویر اورویڈیو ارسال کریں،کمرشل عمارتوں میں ایک ماہ میں فائر ہائیڈرنٹ کی تنصیب یقینی بنائیں۔
مریم نوازشریف نے مزید کہا آگ بجانے کے آلات کی ایکسپائری ڈیٹ اورفائر آلارم چیک کیے جائیں۔جگہ جگہ بے ہنگم لٹکتے ہوئے تار نہ صرف آتشزدگی کا باعث بنتے ہیں بلکہ بارش میں بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔سہ منزلہ عمارتوں کے بیسمنٹ میں کے چند بوائلر اورآتشزدگی موادسٹورکرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔بوائلرپھٹنے سے مزدور مرتا ہے تو گویا خاندان مرتا ہے،کسی بھی مزدور کا جلنا یا مرنا قطعا ًبرداشت نہیں۔صوبہ بھر میں سلنڈرانسپکشن کی جائے،غیر معیاری سلنڈر بنانے اوربیچنے والے ادارے سیل کیے جائیں۔ہر عمارت میں آٹو میٹک سپرینکل سسٹم ہونا چا ہیے۔ویلڈنگ بھی محفوظ جگہ پر کی جائے،ویلڈنگ کے دوران اڑنے والی چنگاری بھی آتشزدگی کا سبب بن سکتی ہے۔
کمرشل عمارتوں میں فائر ہائیڈرنٹ نصب کرنے کیلئے ایک ماہ کی مہلت ہے،پھر کارروائی ہوگی۔