ویب ڈیسک : ڈپریشن کے منفی اثرات کسی مریض کے جذبات اور ذہنی صحت پر ہی مرتب نہیں ہوتے بلکہ جسم بھی متاثر ہوتا ہے۔
ڈپریشن ایک پیچیدہ ذہنی مرض ہے جس کے شکار افراد اکثر اداس رہتے ہیں جبکہ ہر وقت بے بسی کا احساس بھی ہو سکتا ہے۔
ہر فرد کو ہی زندگی میں کبھی نہ کبھی اداسی یا صدمے کے باعث ڈپریشن کی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔
مگر ان علامات کا دورانیہ 2 ہفتوں سے زیادہ ہو تو یہ سنگین مسئلے کی جانب نشاندہی کرتا ہے۔
یہ عام ترین دماغی عارضہ ہے اور جوان افراد میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور اب اس کی ایک اہم وجہ دریافت ہوئی ہے۔
درحقیقت سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال ڈپریشن سے متاثرہونے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
سنسیناٹی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ ڈھائی گھنٹے سے زائد وقت تک سوشل میڈیا پر اسکرولنگ اور ڈپریشن سے متاثر ہونے کے درمیان تعلق موجود ہے۔
اس تحقیق میں 18 سے 70 سال کی عمر کے ایک لاکھ 83 ہزار سے زائد افراد سے ہونے والے سرویز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
ان افراد سے مختلف موضوعات پر 1318 سوالات پوچھے گئے تاکہ ڈپریشن سمیت دیگر طبی مسائل کا تجزیہ کیا جاسکے۔
تحقیق میں ایک مشین لرننگ ماڈل کو استعمال کرکے سوشل میڈیا کے استعمال اور ڈپریشن کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا۔
محققین نے دریافت کیا کہ جو افراد روزانہ ڈھائی گھنٹے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان کی جانب سے ڈپریشن کی علامات کو زیادہ رپورٹ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حقیقی دنیا میں رابطے سے رہنے اور اچھی دماغی صحت کے درمیان تعلق موجود ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ ٹیلی ویژن یا ویب سرفنگ سے بھی یہ خطرہ بڑھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں سوشل میڈیا میں آپ ان افراد سے رابطے میں رہتے تھے جن کو آپ جانتے تھے مگر اب وہاں آپ اجنبی افراد کے مواد کو دیکھتے ہوئے وقت گزارتے ہیں۔
محققین کے مطابق سوشل میڈیا کسی لت کی طرح ہے اور دماغی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ لوگوں کے لیے اب اس کا مکمل استعمال ترک کرنا مشکل ہوچکا ہے۔
ان کے مطابق اگر سوشل میڈیا کا استعمال احتیاط سے کیا جائے تو ڈپریشن سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔