"کوئی مائی کا لال پیدا نہیں ہوا جو فیصلہ ادھر اُدھر کرواسکے"


(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ کے  جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے سیشن عدالتوں میں زیر ٹرائل مقدمات کی بار بار منتقلی کیخلاف درخواستوں پر دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ کوئی مائی کا لال ایسا پیدا نہیں ہوا جو فیصلہ ادھر ادھر کرواسکے، صرف دو فیصد وکلاء نے پورے سسٹم کو مفلوج کر رکھا ہے۔

جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ملزم نوید حسین کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواستگزار کی جانب سے ایڈووکیٹ سید فرہاد علی شاہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ دوران سماعت بنچ کے سربراہ جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ کسی کو عدالتوں کو ہائی جیک نہیں کرنے دیں گے، ہم صرف اللہ کی رضا کے لئے کام کرتے ہیں۔ فل بنچ کے روبرو پراسیکیوٹر جنرل سید احتشام قادر شاہ نے بطورعدالتی معاون دلائل دیئے کہ سیشن جج کے پاس ٹرائل کو منتقل کرنے کا اختیار نہیں جس پر بنچ کے سربراہ نے کہا کہ اسی قانونی نقطے کی تشریح کے لیے یہ بنچ بنایا گیا ہے، بغیر بیان حلفی ٹرائل کیس کی منتقلی سسٹم کی خرابی کا باعث ہیں۔

 پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے مزید دلائل دیئے کہ ججز کو بغیر وجہ کیسز کی مزید تاریخ نہیں دینی چاہیئں جس پر عدالت نے قرار دیا کہ تاخیری حربوں کے حوالے سے عدالتوں کو یہ معاملہ دیکھنا چاہیے۔ ٹرائل کورٹس کو بھی اعلی عدلیہ کی تقلید کرنی چاہیے،فل بنچ نے مدعی کے وکلاء کو مزید دلائل کیلئے  کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 29 اپریل تک ملتوی کردی۔

Sughra Afzal

Content Writer