ویب ڈیسک:وفاقی وزیربرائے امورکشمیروگلگت بلتستان امیرمقام نے کہاہے کہ مودی کے ظلم کے آگے مقبوضہ کشمیر کے عوام کبھی گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔ وفاقی وزیر برائے کشمیر افیئرو گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نےجموں و کشمیر میں بھارتی قبضے کی مذمت کے سلسے میں یوم سیاہ کی مناسبت سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہاکہ متعدد حریت رہنما بھارتی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں.
وفاقی وزیرانجینئر امیر مقام نے کہاکہ 27اکتوبر کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے اور مظالم کو بے نقاب کرنے کا دن ہے،مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے اور مظالم کیخلاف کل بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
سٹی42: پاکستان پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کیلئے ارکان کی مطلوبہ تعداد سے زیادہ ارکان اسمبلی کو اپنے پروں تلے سمیٹ لیا۔ انار حکومت کا جانا اب نوِشتہ دیوار ہے۔
تحریک انصاف آزاد کشمیر فارورڈ بلاک کے 9 وزرا نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ پی ٹی آئی آزادکشمیر کے 5 وزرا نے فریال تالپور اور چوہدری ریاض سے ملاقات کی جس میں پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا جن میں چوہدری یاسر، محمد حسین، چوہدری محمد اخلاق، چوہدری ارشد اور چوہدری محمد رشید شامل ہیں۔
اس کے بعد مصدقہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کے مزید چار وزرا نے فریال تالپور سے ملاقات کی پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
ان وزرا میں فہیم اخترربانی، عبدالماجد خان، محمد اکبرابراہیم اور عاصم شریف بٹ شامل ہیں۔
فریال تالپور نے نئے شامل ہونے والے رہنماؤں کا خیرمقدم اور ان پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ آزاد کشمیر کے عوام کی سچی نمائندہ رہی ہے، سیاسی اورمعاشی حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
آزاد کشمیر کے وزیرہائرایجوکیشن ظفراقبال ملک بھی پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے۔
انہوں نے بھی فریال تالپور اور چوہدری ریاض سے ملاقات کے شمولیت کا اعلان کیا جس کے ساتھ ہی پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے ارکان اسمبلی کی تعداد 27 تک پہنچ گئی۔
دوسری جانب ذرائع پیپلزپارٹی نے بتایاکہ مسلم لیگ ن کی حمایت کے بغیرحکومت بنائیں گے، فریال تالپورکی جانب سے آج سندھ ہاؤس اسلام آباد میں رات10 بجےڈنردیاجائےگا جس میں پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی شریک ہوگی، اس کے علاوہ مہاجرین نشستوں اور بیرسٹرسلطان گروپ کےارکان شریک ہوں گے۔
ذرائع نے بتایاکہ بیرسٹرسلطان گروپ نے فریال تالپورکے ساتھ ملاقات میں ووٹ کی یقین دہانی کرادی، بیرسٹرسلطان گروپ کے 5 اور مہاجرین نشستوں کے 5 ارکان پیپلزپارٹی کیساتھ ہیں، دو ارکان کی حمایت خفیہ رکھی گئی ہے۔
ذرائع پیپلزپارٹی کےمطابق دونوں دھڑوں کی شمولیت کےبعد30 سے زائدارکان کا ساتھ حاصل ہے۔
صدر آصف زرداری نے آزادکشمیر میں عدم اعتماد لانے اور آزادکشمیر میں حکومت بنانےکی منظوری کل شام دی تھی۔
آزاد کشمیرقانون ساز اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو 27 اراکین کی حمایت درکار ہے جبکہ قانون سازاسمبلی میں اِس وقت پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 17 ہے جو مزید 10 ارکان کی شمولیت کے بعد 27 ہوگئی۔
مسلم لیگ ن اس وقت 9 ارکان اسمبلی کے ساتھ ایوان میں موجود ہے لیکن ن لیگ نے حکومت سازی کا حصہ نہ بننے کا اعلان کیا ہے۔
سٹی42: آزاد کشمیر میں عوام کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہونے والی انوار حکومت سے جان چھڑانے کے لئے پیپلز پارٹی کی کوشش کو اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے سیاست کا آغاز کرنے والے آزاد کشمیر کے سینئیر سیاستدان بیرسٹر سلطان محمود چوہدری بھی پیپلز پارٹی مین واپس آنے کے لئے مان گئے۔
اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی میں تعاون کرنے کے لئے پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک کے اہم لیڈر بیرسٹر سلطان محمود سے براہ راست رابطہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں باہمی تعاون کی بات آگے بڑھنے کا روشن امکان سامنے آگیا ہے۔ فارورڈ بلاک کے لیڈر بیرسٹر سلطان محمود نے اپنے گروپ کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی ان ہاؤس تبدیلی میں معاونت کرنے کی حامی بھر لی ہے اور کہا ہے کہ سپیکر ان کے ساتھیوں میں سے بننا چاہئے۔ بیرسٹر سلطان مھمود کے ساتھ رابطہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئیر لیڈر چئیرمین بلاول کی پھپھو فریال ٹالپر نے کیا۔ ان کے ساتھ بات چیت میںبیرسٹر سلطان نے یہ نکتہ اٹھایا کہ وہ بیرون ملک جانا چاہتے ہیں۔ صدر کی ملک سے باہر جانے کی صورت میں آزاد کشمیر کا سپیکر از خود قائم مقام صدر بن جاتا ہے؛ بیرسٹر سلطان محمود چاہتے ہیں کہ سپیکر ان کے گروپ سے بنوایا جائے۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا اپنے سابق رکن بیرسٹر سلطان محمود کو واپس لانے کے لئے ان کی فرمائش من و عن پوری کرنے کی طرف رجحان دکھائی دیتا ہے۔ صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری علاج کی غرض بیرون ملک جانا چاہتے ہیں اور ان کی تجویز کو ماننے میں پیپلز پارٹی کا ہر طرح فائدہ ہے۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے ساتھ ان کے گروپ کے ارکان بھی پیپلز پارٹی سے تعاون کریں گے تو پیپلز پارٹی کسی دوسری پارٹی کی مدد کے بغیر آزاد کشمیر کے ناپسندیدہ وزیراعظم انوار سے جان چھڑانے میں آسانی سے کامیاب ہو جائے گی۔
Caption بیک ڈور رابطوں میں تعاون کا فارمولا طے ہوتے ہی محترمہ فریال تالپور کی بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے گھر پر آج آمد متوقع ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ فریال تالپور آج آزاد کشمیر اسمبلی کی جموں مہاجر نشستوں پر منتخب ہوئے ارکان اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گی۔
بعد میں آنےوالی خبریں؛ پیپلز پارٹی کو تیس ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل
آزاد کشمیر میں عوام کو ناپسندیدہ حکومت سے نجات دلوانے کے لئے پیپلز پارٹی کی کوشش فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئی۔
پیپلز پارٹی قیادت نے یقین کے ساتھ بتایا ہے کہ آج کی رات کشمیر میں منظرنامہ بدل جائے گا۔
پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے انوار حکومت کو رخصت کر کے عوام دوست حکومت لانے کیلئے اپنی کوشش کے کامیاب ہونے کا دعویٰ کر دیا۔
پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اب 30 سے زائد ارکان اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں۔مسلم لیگ (ن) کی حمایت کے بغیر حکومت بنانے میں کایماب ہو جائیں گے۔
فریال تالپور کے ڈِنر کا انتظار
پیپلز پارٹی کی لیڈر محترمہ فریال تالپور کی جانب سے آج سندھ ہاؤس اسلام آباد میں رات 10 بجے ڈنر دیا جائے گا۔
ڈنر میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی، آزاد کشمیر اسمبلی مین جموں کے مہاجرین کیے نمائندہ ارکان اور صدر بیرسٹر سلطان محمود گروپ کے ارکان شریک ہوں گے۔
بیرسٹر سلطان محمود کے نمائندوں نے زرداری ہاؤس میں محترمہ فریال تالپور کے ساتھ ملاقات میں ووٹ کی یقین دہانی کرادی۔
ذرائع کے مطابق، بیرسٹر گروپ کے 5 اور مہاجرین نشستوں کے 5 ارکان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔
مزید دو ارکان وہ ہیں جن کی کی حمایت اب تک خفیہ رکھی گئی ہے۔
پیپلز پارٹی کے مطابق دونوں دھڑوں کی شمولیت کے بعد 30 سے زائد ارکان کا ساتھ حاصل ہے۔
پیپلز پارٹی آج پاور شو کے ذریعے اپنی عددی برتری ثابت کرے گی۔
فریال ٹالپر کا ڈنر سیاسی طاقت کا اظہار ہو گا۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم انوار اب استعفیٰ دے کر وزیراعظم ہاؤس پیپلز پارٹی کے نامزد وزیراعظم کے لئے خالی کر دین گے اور تحریک عدم اعتماد پیش کئے جانے کی نوبت نہیں آئے گی۔
سٹی42: پی ٹی آئی آزادکشمیر ارکانِ اسمبلی پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں شامل ہو گئے۔
پی ٹی آئی کے یہ پانچ ارکان کشمیر اسمبلی اس وقت پی ٹی آئی فارورڈ بلاک میں تھے اور چوہدری انوار کی ھکومت میں وزیر ہیں۔ آج ان پانچوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
انوار حکومت کے بک وقت کے 5 وزرا کے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان سے وزیراعظم کی رہی سہی قوت بھی ختم ہو گئی ہے، اس کے باوجود آج رات تک ان کے استعفے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
پی ٹی آئی کے پانچوں وزرا نے فریال تالپور سے ملاقات کر کے پیپلز پارٹی مین آنےکا اعلان کیا۔ اب قانون ساز اسمبلی میں پیپلز پارٹی پارلیمانی گروپ کے ارکان کی تعداد 22 ہے۔
آج 25 اکتوبر کو آزاد کشمیر کے وزیرہائرایجوکیشن ظفراقبال ملک بھی پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے۔
انہوں نے بھی فریال تالپور سے ملاقات کی اور پیپلز پارٹی میں آنے کا شمولیت کا اعلان کیا۔ اس اضافہ کے ساتھ پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے ارکان اسمبلی کی تعداد 23 تک پہنچ گئی۔
پیپلز پارٹی آزادکشمیر میں اپنی حکومت بنائیگی، کل ہفتے کےروز پیپلز پارٹی کے مینٹور پریذیڈنٹ آٖصف علی زرداری نے انوار حکومت سے عوام کی جان چھڑانے کے لئے آزاد کشمیر اسمبلی مین تحریک عدم اعتماد لانے کی اجازت دی ہے۔ اس کے بعد ایک ہی دن میں پیپلز پارٹی اور دوسری پارٹیوں کی آزاد کشمیر اسمبلی مین عددی قوت میں غیر معمولی تبدیلیاں آئی ہیں۔ عدم اعتماد لانےکے لئے درکار عددی قوت تیزی سے پیپلز پارٹی میں مرتکز ہو رہی ہے۔
آزاد کشمیر میں نئی حکومت بننا اب یقینی ہے اور قیاس کیا جا رہا ہے کہ پرائم منسٹر انوار تحریک عدم اعتماد آنے کا انتظار نہین کریں گے، پہلے ہی استعفیٰ دے کر پیچھے ہٹ جائین گے۔
پارٹیوں کی عددی قوت
آزاد کشمیرقانون ساز اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو 27 اراکین کی حمایت درکار ہے جبکہ قانون سازاسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد کل 17 تھی جو مزید 6 ارکان کے شامل ہونے کے بعد 23 ہوگئی۔
مسلم لیگ ن 9 ارکان اسمبلی کے ساتھ ایوان میں موجود ہے۔ مسلم لیگ نون نے آج اتوار کے روز ہی یہ اعلان کیا ہے کہ وہ انوار حکومت کو ہٹانے کی سرگرمی مین شریک ہو گی۔ مسلم لیگ نون یقیناً پیپلز پارٹی کی نئی حکومت بننے مین معاونت کرے گی؛ کیسے اور کس قیمت پر یہ ابھی سامنا آنا باقی ہے۔
سٹی 42: : وفاقی حکومت نے آزادکشمیرکےلیے14ارب روپےکے ترقیاتی فنڈزجاری کرنےکی منظوری دے دی گئی ۔
یہ منظوری جولائی تاستمبراوراکتوبرتا دسمبر 2025کی 2 سہ مائیوں کےلیےدی گئی۔فنڈزکےلئےوزارت منصوبہ بندی نےاپ فرنٹ ون لائنراتھارایزیشن دی ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان فنڈزکاآزادکشمیرمیں موجودہ سیاسی صورتحال سےکوئی تعلق نہیں ہے۔پہلی 2 سہ مائیوں کےترقیاتی فنڈزکی منظوری کچھ دن پہلے دی گئی۔
وفاقی ترقیاتی بجٹ میں رواں مالی سال آزادکشمیرکے لیےکل45ارب روپےمختص ہیں۔وفاقی ترقیاتی فنڈزکی منظوری صرف آزادکشمیر تک محدود نہیں ہے۔وفاقی وزارتوں، ڈویژنزسمیت دیگرکے لیےفنڈز جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔
مالی سال کی پہلی2 سہ مائیوں میں کل 335ارب 43کروڑکےاجراء کی منظوری دی گئی۔رواں مالی سال مجموعی طور پر ایک ہزار ارب روپےکاوفاقی ترقیاتی بجٹ مختص ہے۔