سٹی42: کنٹروورسی کی کمائی سے عمرہ کرنے گیا لیکن مزید کنٹروورسی پیدا کر کے مزید ڈالر کمانے کے لئے عمرہ کی عبادت کو بھی نہیں بخشا، ہٹا کٹا ہوتے ہوئے خود بھی وہیل چئیر پر بیٹھ گیا اور اپنے ساتھ اپنے ہٹے کٹے رشتہ داروں کو بھی وہیل چئیر پر بٹھا کر مسلمانوں کو اپنی اور اپنی فیملی کی وہیل چئیرز دھکیل کر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے پر لگا دیا۔
یہ تماشا پاکستان کے عقل و بصیرت سے یکسر محروم یو ٹیوبر رجب نے کیا ہے جسے لوگ رجب بٹ بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ خود کو اسی نام سے مشہور کئے ہوئے ہے۔
عمرہ تو سال کے تین سو پیسٹھ دنوں کے دوران کروڑوں مسلمان ادا کرتے ہیں لیکن اس عبادت کی کنتروورسی کچھ ہی کم ظرف بناتے ہیں۔ اب اب کٹروورسی کی کمائی سے عیش کرنے والے یو ٹیوبر کے حوالے سے جو ہیڈ لائنز بنیں وہ کچھ یوں ہیں: "رجب بٹ کا وہیل چیئر پر عمرہ: ’’کیا چلنے سے بھی معذور ہوگئے؟‘‘ صارفین کی تنقید، سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا واقعی انہیں وہیل چیئرز کی ضرورت تھی؟
ایک سنجیدہ مواد پوسٹ کرنے والی نیوز آؤٹ نے لکھا، "مشہور یوٹیوبر" رجب بٹ پر "295" کے ذو معنی نام سے چربہ پرفیوم کی مارکیٹنگ کرنے لوگوں کے جذبات کو مجروح کرنے کا الزام عائد ہوا تھا۔ اس سے پہلے اسے مسیحیوں کی توہین کرنے کے سبب لعن طعن کی گئی اور اس سے کچھ ہی روز پہلے اس نے مسلمانوں کی عبادت گاہ مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کی ویڈیو بنوائی تو لوگوں نے اس پر نماز کا مذاق اڑانے کا الزام لگایا اور مقدمہ درج کروا دیا۔ ان دو الزامات میں دو مقدمے درج ہونے سے دو ٹکے کے یوٹیبر کو یہ جہالت پر مبنی دعویٰ کرنے کا موقع ملا کہ انڈیا کے لیجنڈری فوک سنگر "سدھو موسے والا" پر بھی "295" لگی تھی اور اس (رجب عرف بٹ) پر بھی دو سو پچانوے لگ گئی بلکہ اس مسخرے نے فخر کے ساتھ کہا، مجھ پر تو دو سو پچانوے سی لگی ہے۔ اس لئے اب میں 295 پرفیوم "لانچ کر رہا ہوں"۔ رجب عرف بٹ کو شاید ہی خوشبوؤں کا فہم ہو، اس کا "پرفیوم لانچ" کرنا خود ایک بھدا جوک تھا لیکن اس نے اس نام نہاد پرفیوم کا نام "295" رکھ کر بلاسفیمی کی اس کافی زیادہ تنازعات اور پاکستان سے باہر اور پاکستان کے اندر تنقید کا نشانہ بننے والے اس قانون کو لے کر نئی کنٹروورسی کھڑی کرنے کی بچگانہ کوشش کی۔
295 وہ قانون ہے جس کے تحت پاکستان میں راولپنڈی کی ایک عدالت نے غالباً کل ہی پانچ افراد کو پھانسی کے ساتھ عمر قید اور دس دس سال قید کی تہری سزا سنائی ہے۔
رجب عرف بٹ نے مسلمانوں کی نماز اور مسیحیوں کے روزے کا تمسخر تو ضرور اڑایا لیکن اس کے پیچھے اس کا کوئی نطریہ نہیں بلکہ محض پرلے درجہ کی بے وقوفی پر مبنی سستی بلکہ گھٹیا شہرت حاصل کرنے کی خواہش اور کوشش ہے- صرف اس لئے تمسخر اڑانا کہ لوگ اس کی یو ٹیوب دیکھیں اور اس کے کشکول میں چند مزید ڈالر آ گریں!
یہ دو سو پچانوے والا خطرناک تماشا لگانے کے بعد اس مسخرے کو اپنے جیسے دوسرے مسخروں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے، مذہب سے محبت کا ناٹک بھی کرنا تھا، وہ اپنی فیملی کو لے کر عمرہ کرنے کے لئے سعودی عرب گیا لیکن وہاں جا کر اس نے ایک اور گھٹیا حرکت کر ڈالی، یہ حرکت بھی یقیناً جان بوجھ کر ہی کی ہو گی کیونکہ اس کی ویڈیو گرافی کا خٓص اہتمام کیا گیا ، یقیناً مقصد یہی ہو گا کہ لوگ اس کی یو ٹیوب دیکھیں اور مزید کچھ ڈالر اس کے کشکول میں آ گریں۔
معاصر نیوز آؤٹ لیٹس کے مطابق سوشل ویب سائتس پر رجب کی شہرت حاصل کرنے کی بھوک مٹانے کے لئے اسے اور اس کے خاندان کے بعض افراد کو " صفا اور مروہ کی سعی" کرتے ہوئے وہیل چیئرز پر بیٹھے دکھایا۔ چونکہ وہ اور اس کے ہمراہی ہٹے کٹے نظر آ رہے تھے اور صحت مند نظر آرہے تھے، اس لیے سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا واقعی ان ہٹے کٹے لوگوں کو وہیل چیئرز کی ضرورت تھی۔
سوشل میڈیا پر "کنٹروورسی پیدا کرنے" کی سستی ٹیکنیک اختیار کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے رجب بٹ کی وہیل چئیر پر عمرہ کرنے کی پوسٹ پر سرسری سے تنقیدی تبصرے کئے، پھر کچھ لوگوں نے تشکیک کو ابھارنے والے سوالات پیش کئے جن سے لوگ یہ سوچنے پر مائل ہوں کہ "معاملہ کیا ہے"۔ اور پھر اس موضوع کو مخصوص گروپوں کے ذریعہ وائریل کیا جائے۔
سوشل پلیٹ فارم پر ایک صارف نے لکھا ’’کیا یہ سب معذور ہیں؟‘‘ جبکہ ایک اور صارف نے سوال کیا ’’صحت مند اور جوان افراد وہیل چیئر کا استعمال کیوں کر رہے ہیں؟ کیا یہ مریضوں کے لئے سہولت کا غلط استعمال نہیں؟‘‘
ایک نے کہا، ’’اگر آپ چل سکتے ہیں تو وہیل چیئر پر کیوں بیٹھے ہیں؟ یہ دوسرے حاجیوں کےلیے مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہے۔‘‘
کسی نے کہا، ’’ویسے تو دنیا گھوم رہے ہیں لیکن جہاں دین کےلیے چلنا پڑا تو وہیل چیئر لے لی‘‘۔
سعودی حکام عمرہ اور حج کے دوران معذور یا بزرگ افراد کو وہیل چیئرز کی سہولت فراہم کرتے ہیں، لیکن صحت مند افراد کا اس کا استعمال قابلِ اعتراض سمجھا جاتا ہے۔ رجب اور اس کے خاندان کا یہ اقدام عام لوگوں کو ناگوار گزرا ہے، جن کا ماننا ہے کہ یہ سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے۔ لیکن خاص لوگ جو کنٹروورسی کو بیچ کر ڈالر کمانے کےلئے مرے جا رہے ہیں، ان کے لئے ہر طرح کی تنقید بھی نعمت ہے، لوگ برا بھلا کہیں گے تو کیا ہوا، کسی کے مذہبی جذبات مجروح ہوں تو کیا ہوا، ڈالر تو آئیں گے۔
اگرچہ عمرہ کے دوران کسی مریض کےلیے اضافی سہولیات حاصل کرنا کوئی جرم نہیں، لیکن صحت مند افراد کا وہیل چیئرز کا استعمال اخلاقیات کے سوال کھڑے کرتا ہے۔