ویب ڈیسک: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت نے واشنگٹن کے مطالبات تسلیم نہ کئے تو امریکہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کیلئے تیار ہے، جبکہ ایران نے بھی امریکا کو سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔ دونوں ممالک کے تازہ بیانات نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خدشات کو ایک بار پھر بڑھا دیا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا’’ حملوں کا عارضی طور پر رک جانا اس بات کا مطلب نہیں کہ ہم پیچھے ہٹ گئے ہیں۔س
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اب بھی ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کیلئے تیار ہے، اگر تہران نے امریکہ کے مطالبات پر عمل نہ کیا۔ فرانسیسی ٹی وی چینل’’ LCI ‘‘کو دیئے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ حملوں کا عارضی طور پر رک جانا اس بات کا مطلب نہیں کہ ہم پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا اگر ایران نے ہماری شرائط پوری نہ کیں تو ہم اب بھی اس کے خلاف وسیع فوجی حملہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے ہفتہ کی رات گزشتہ دو ہفتوں میں پہلی بار ایران پر فضائی حملے نہیں کئے۔
امریکا کی جانب سے اب تک اچانک اس فیصلے کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ مسلسل13راتوں تک جاری رہنے والے بڑھتے ہوئے فضائی حملوں کا سلسلہ کیوں روک دیا گیا۔ یہ حملے عارضی معاہدہ ٹوٹنے کے بعد شروع ہوئے تھے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایران کے حملوں کے جواب میں کئے جا رہے تھے۔ امریکی ویب سائٹ ’’ایکسیوس‘‘ (Axios) نے باخبر ذرائع کے حوالے سے، جن کے نام ظاہر نہیں کئے گئے، رپورٹ کیا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز امریکی فوج کو ایران پر مزید نئے حملے نہ کرنے کی ہدایت دی۔
دوسری جانب ایران کی فوج نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملے شروع کئے تو مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اسرائیل کے مؤقف کے تحت دوبارہ ایران پر فضائی حملے کرتا ہے یا جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتا ہے تو اس کے نتائج پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا مؤقف واضح ہے اور اگر امریکہ دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو موجودہ تنازع صرف ایک محدود علاقے تک نہیں رہے گا بلکہ اس کا جغرافیائی دائرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کو اسرائیل کی پالیسیوں سے متاثر ہو کر کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہئے جو خطے میں مزید کشیدگی کا سبب بنے۔