لاہور میوزیم میں محفوظ سونے، چاندی کے تاریخی سکے توجہ کا مرکز

لاہور میوزیم میں محفوظ سونے، چاندی کے تاریخی سکے توجہ کا مرکز

( احمد رضا ) برصغیر پاک و ہند میں قدیم سکے تاریخ شناسی کے لیے اہم ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ سکوں کی ابتدا تو شاید وادی سندھ کی تہذیب میں ہی شروع ہوگئی تھی۔

لاہور میوزیم میں محفوظ سکوں کا خزانہ اصل میں ایک ایسی کان ہے جس کے ذریعے سے ماضی کے اندر جھانکا جاسکتا ہے۔ میوزیم میں سکوں کی گیلری کی انچارج نوشابہ انجم کا کہنا ہے کہ کم از کم دو ہزار سال قبل مسیح سکوں کا استعمال شروع ہوگیا تھا۔ چیز کے بدلے چیز شروع میں طے تھا لیکن قرآن مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے میں چاندی کے سکوں کا تذکرہ ملتا ہے ۔

برصغیر میں سکوں کی مدد سے ہی ہڑپن دور کے بعد کے تاریک دور کا پتہ چلتا ہے۔ کئی سکوں پر خواتین کی شبیہوں سے زمانہ قدیم میں سیاسی اور سماجی شعبوں میں عورتوں کے کردار اور اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

اس وقت میوزیم میں اکتالیس ہزار سے زیادہ سکے ہیں، جو سونے سے لے کر کاپر تک کی دھاتوں سے بنے ہیں۔