ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انقلاب اور رومینٹک شاعری کا امام ساحر لدھیانوی؛ شمع بجھ چکی،دھواں اب تک اُٹھتاہے

Sahir Ludhyanvi, City42
کیپشن: file photo
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  اردو زبان کی فلموں کی رومانٹک شاعری کا ذکر ہو تو ذہن میں پہلا نام ساحر لدھیانوی کا آتا ہے جو کم عمری میں پاکستان اور انڈیا کے علمی، ادبی حلقوں میں کئی منفرد حوالوں سے مقبول ہوئے اور مرتے دم تک مقبولیت کے عروج پر ہی رہے۔ شاعر عشقیہ کلام لکھتے ہیں اور شہرت پاتے ہیں، ساحر نے محض عشقیہ کلام ہی نہیں لکھا بلکہ ایسا عشق فرمایا جس نے ان کو اور ان کی مرکزِ نگاہ امرتا پریتم دونوں کو  دوامی شہرت بخشی، یہ تعین کرنا اب  تک دشوار ہے کہ ان دونوں کو عشق نے مشہور کیا یا کہ عشق ان کے خونِ جگر کو پی کر توانا ہوا، بہرحال ساحر لدھیانوی اپنی وفات کی نصف صدی بعد بھی لوگوں کو یاد ہیں اور ان کے ساتھ ان کا بے مثل عشق بھی۔

ساحر الدھیانوی کی شہرت کی وجہ ان کی اصل شاعری سے زیادہ  ان کی رومینٹِک شخصیت تھی، اس شخصیت کے ساتھ شہرت کی وجہ وہ گیت بنے جو انہوں نے بولی ووڈ کی فلموں کے لئے لکھے۔ ان کے کروڑوں مداحوں میں جنریشن ایکس سے جنریشن الفا تک ہر وقت کے لوگ شامل ہیں۔  آج 25 اکتوبر 2025، ساحر لدھیانوی کی 45ویں برسی ہے۔ساحر لدھیانوی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے بیشتر لوگ بھی دنیا سے ایک ایک کر کے رخصت ہو گئے لیکن ان کی شاعری زندہ ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کی قدر و قیمت بڑھتی ہی جاتی ہے جیسے کہ نایاب ہیروں کے معاملہ میں ہمیشہ ہوتا ہے۔

ساحر لدھیانوی کے غیر فلمی کلام کو کم لوگ، صرف وہی جو ادبی ذوق رکھتے ہیں،  پڑھ پائے البتہ ان کے فلموں کے لئے لکھے گیتوں  نے گزشتہ کئی نسلوں کے دوران جنوبی ایشیا کے تقریباً ہر میوزک لوور کے دل میں جگہ بنائی۔

ساحر کے گیت اب بھی یونیورسٹی لائف کا تلازمہ

اگرچہ ساحِر کے کسی ایک "سب سے زیادہ" پسند کئے جانے والے گانے کا نام لینا مشکل ہے تاہم ساحر کے لکھے اور ہیمنت کمار کے گائے ہوئے کچھ گیت واقعتاً سدا بہار ہیں۔ یہ گیت دراصل بولی ووڈ مین مغربی سازوں اور میوزک  کے رجحانات کے ساتھ قدیم مشرقی میوزک کے ملاپ کے انوکھے تجربات سے جنم لے رہا تھا۔ تب سے اب تک میوزک میں بہت سے رجحان آئے اور بدل گئے لیکن ساحر لے لکھے اور ہیمنت دا کے گائے ہوئے یہ گیت اب بھی یونیورسٹیوں کے کیمپس اور ہاسٹلز کی زندگی کا ایک تلازمہ ہیں۔

"کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے" کو ساحر لدھیانوی کے سب سے مشہور  کاموں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جس نے انہیں بہترین گیت نگار کا فلم فیئر ایوارڈ دلوایا۔ دیگر انتہائی مشہور گانوں میں "یوں تو ہم نے لاکھ حسین دیکھے ہیں"،"یہ رات یہ چاندنی پھر کہاں"،  "نیلے گگن کے تلے"، "اڑیں جب جب زلفیں تیری،" اور  گیتا دت کا گایا ہوا اور گیتا بالی پر فلمایا ہوا  موٹیویشنل گیت "تدبیر سے بگڑی ہوئی تقدیر بنا لے" شامل ہیں۔

میں پل دو پل کا شاعر ہوں، "جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا"

جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا،  لاگا چنری میں داغ چھپاؤں کیسے، من رے تو کاہے نہ دھِیر دھرے،  اے میری زہرہ جبیں، اریں جب جب زلفیں تیری، یہ ساحر کے سدا مقبول گانوں میں سے محض چند ہیں۔

Caption  ساحِر لدھیانوی کا امرتا پریتم سے عشق اب تک ادب شناس حلقوں میں سب کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ گزشتہ دنوں ساحر اور امرتا کی ناکام محبت پر ایک ڈرامہ بنایا گیا۔ اداکار دیپتی نیول اور شیکھر سمن نے اس ڈرامے میں شاعرہ امریتا پریتم اور ساحر لدھیانوی کے کردار کئے ۔

پیاسا (1957)
ڈائریکٹر گرو دت اور موسیقار ایس ڈی کےکولیبوریشن سے بنی اس فلم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا مرکزی کردار دراصل ساحر لدھیانوی کو سامنے رکھ کر تراشا گیا تھا۔  اس فلم کا ساؤنڈ ٹریک اس کی شاعرانہ گہرائی کے لیے مشہور ہے۔

"ہم آپ کی آنکھ میں": ایک رومانوی دوگانا جو محمد رفیع اور گیتا دت نے گایا ہے۔
"جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا": ہیمنت کمار کا گایا ہوا ایک اداس اور گہرا گانا جو اب تک مقبول ہے۔
"یہ دنیا اگر مل بھی جائے": ایک جذباتی طور پر طاقتور اور سماجی طور پر متعلقہ گانا جسے محمد رفیع نے گایا ہے۔

ساحر لدھیانوی کون تھے
لدھیانہ پنجاب کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہونے والے ساحر کی زندگی والدین کی تلخ علیحدگی اور والدہ سردار بیگم کے صبر و ایثار سے برداشت کئے دکھوں سے متاثر ہوئی۔ شاید  یہی تجربے ان کے اندر مظلوموں کے لیے گہری ہمدردی کا بیج بنے۔ جوان ہوئے تو خود ان کو  عشق میں دکھ کے گہرے تجربات سے گزرنا پڑا۔ نامور شاعرہ امرتا پریتم کے ساتھ ساحر کا عشق ان دونوں کی بے مثال شاعری سے بھی زیادہ مشہور رہا۔ دونوں ملے بھی لیکن نہ ملنے جیسے ہی رہے۔ محرومی اور فراق ان کے عشق کی داستان کا سب سے نمایاں پہلو رہی۔


 آج ساحر لدھیانوی کی 45ویں برسی ہے۔ ان کا اصل نام عبدالحئی تھا، اور ان کے’جادوئی‘ قلمی نام ساحِر کے پیچھے ایک بے باک سماجی ضمیر چھپا ہوا تھا۔ ساحر کی شاعری، جو کبھی ایک نئی خودمختار قوم کی زبان بنی تھی، آج بھی ایک دائمی انقلابی منشور کی طرح  زندہ ہے۔ ایسا منشور جو ہماری  آج کی دنیا کے زخموں سے براہِ راست بات کرتا ہے۔ اس کا سب سے موزوں کتبہ خود اس کے الفاظ میں پوشیدہ ہے، جو فنا اور مزاحمت کی گواہی دیتا ہے:

جسم کی موت کوئی موت نہیں ہوتی
جسم مٹ جانے سے انساں نہیں مٹ جاتے


تلخی اور تابناکی کی ابتدا:
ساحر کا فنی جوہر ایک ہنگامہ خیز جوانی کے دوران تراشہ ہوا معلوم پڑتا ہے۔  ان کے بچپن کی تلخی، بعد میں ان کے پہلے مجموعہ  کلام ’تلخیاں‘کا عنوان بنی۔

نظموں اور غزلوں کےاس مجموعہ کی اشاعت لاہور میں ہوئی، اور اس وقت ساحر کی عمر   24 سال تھی۔ یہ تصنیف رومانوی احساسات اور ترقی پسند نظریے کا حسین امتزاج تھی۔ ان کی بے چین لیکن رحم دل روح خاص طور پر ناکام محبت کی نظموں میں جھلکتی ہے:

کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے
کہ زندگی تیری زلفوں کی نرم چھاؤں میں
گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی
اردو جرائد اور ادبی رسائل میں صحافت اور ادارت کے میدان میں اپنی شناخت قائم کرنے کے بعد، ساحر کے انقلابی اور تند و تیز بیانات نے پاکستانی حکام کو ناراض کر دیا۔ اس کے نتیجے میں انہیں 1949 میں بمبئی (اب ممبئی) ہجرت کرنی پڑی۔ رہائش کی یہ تبدیلی گرچہ اردو ادب کے لیے ایک نقصان تھی، لیکن ہندی سنیما کے لیے ایک عظیم تحفہ ثابت ہوئی۔ بالی ووڈ میں ساحر کے قلم نے اگلی 3 دہائیوں تک ’عوامی شاعر‘ کے طور پر ایک لازوال وراثت تخلیق کی۔


عزتِ نفس کا بے خوف محافظ:
ساحر کے فن میں انقلابی جذبہ سب سے نمایاں طور پر عورت کی عزتِ نفس کے دفاع میں جھلکتا ہے۔ اس بات میں بڑی معنویت ہے کہ وہ 8 مارچ، یعنی یومِ خواتین کے دن پیدا ہوئے۔ ساحر کے نزدیک عورت صرف محبت کی علامت نہیں بلکہ ایک خالق، ایک بغاوت کرنے والی ہستی ہے، جسے صدیوں سے مٹانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ان کی نظموں میں پدرشاہی نظام کے خلاف سخت مزاحمت بھی صاف دکھائی دیتی ہے:

’عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں نے اسے بازار دیا‘
انھوں نے کبھی بھی سوداگری کے سامنے سر خم نہیں کیا:

’لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں‘

ساحر کے لیے  شاعری محض احتجاج کا نعرہ نہیں بلکہ ان کے وقت کی معاشرتی منافقت کا آئینہ تھی۔ ان کا ویژن صوفیانہ سکون، عقلی تنقید اور گنگا-جمنی تہذیب کے امتزاج کا مظہر تھا، جو انسانیت کی وحدت پر یقین رکھتا ہے۔


ظلم و جنگ کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والی آواز:
ساحر محض لفظوں کو جوڑ توڑ کر شعروں میں ڈھالنے کے فنکار ہی نہیں بلکہ خود ایک دانش ور اور مفکر بھی تھے، وہ مارکس کے فلسفہ کے سٹوڈنٹ تھے، انگریز کے مقبوضہ ہندوستان میں سیاسی انقلاب کی تحریک کے سرخیل بھی تھے اور سماجی تبدیلی کے بہت مؤثر داعی بھی تھے۔  جنگ اور سامراجی جبر کے خلاف ساحر کی شاعری آج بھی پہلے والی ہی شدت سے گونجتی ہے۔ ان کی نظم ’آوازِ آدم‘ (1949) میں طاقت کے مرکزوں کے خلاف ان کی للکار ہمیشہ تازہ رہنے والی ہے:

دبے گی کب تلک آوازِ آدم، ہم بھی دیکھیں گے
رکیں گے کب تلک جذباتِ برہم، ہم بھی دیکھیں گے
افریقی رہنما پیٹیس لوممبا کے قتل کے بعد لکھی گئی ساحر کی نظم ’خون پھر خون ہے‘ ظالموں کے لیے ایک لرزہ خیز تنبیہ تھی:

ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا

ان کا دوسرا مجموعہ ’پرچھائیاں‘ جنگ کی ہولناکی پر تقریباً پیشین گوئی کرنے والا بیانیہ معلوم پڑتا ہے، جس میں انسان کی تنہائی اور وجود پر جنگ کے اثرات کو عیاں کیا گیا ہے:

گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے، مگر اس بار
عجب نہیں کہ تنہائیاں بھی جل جائیں


جب شاعری نے فلم کو رفعت بخشی:
اگرچہ کچھ ناقدین نے ساحر کے فلمی نغمہ لکھنے کے فیصلے کو فن کی ’قید‘ قرار دیا، لیکن انہوں نے کبھی بھی کاروباری رکاوٹوں کو اپنے فن پر اثرانداز نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے فلمی دنیا میں شاعر کے وقار اور رائلٹی کے حق کا مطالبہ کیا۔ ان کے نغمے محض گیت نہیں، بلکہ فلسفیانہ، سیاسی و روحانی عکاسیاں ہیں:

فلسفیانہ مایوسی: یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے (فلم ’پیاسا‘، 1957)
سیکولر انسانیت: تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا/ انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا (فلم ’دھول کا پھول‘، 1959)
ماورا عشق: عشق آزاد ہے، ہندو نہ مسلمان ہے عشق/ آپ ہی دھرم ہے اور آپ ہی ایمان ہے عشق (فلم ’برسات کی رات‘، 1960)
ساحر کے موسیقاروں کے ساتھ تعلقات اکثر تناؤ کا شکار رہے، خواہ ایس ڈی برمن ہوں یا او پی نیر۔ خاص طور سے روشن، خیام اور روی جیسے فنکاروں کے ساتھ بھی اپنی بے باکی کے باوجود ایسے شاہکار جنم دیے جو نسل در نسل سننے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

ایک لا زوال شعلہ، ایک بے مثال صلاحیت:
25 اکتوبر 1980 کو ساحر لدھیانوی بمبئی میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے۔ اس سے قبل 1971 میں انہیں پدم شری سے نوازا جا چکا تھا، لیکن ان کا اصل اعزاز ان کی ہمیشہ زندہ رہنے والے بامعنی نغمے ہیں۔ وہ کسی ایک خانہ میں بند نہیں ہو سکتے۔ ایک ہی وقت میں وہ انقلابی بھی تھے اور رومان پرست بھی، گواہ بھی تھے اور ضمیر بھی۔ انہوں نے خود کو اپنے اشعار میں یوں بیان کیا تھا:

میں پل دو پل کا شاعر ہوں،
پل دو پل میری کہانی ہے
لیکن جب تک دنیا میں ناانصافی، تڑپ اور وقار کے لیے لڑنے کی ضرورت باقی ہے، ساحر کی گونج زمانے کے اندھیروں میں زندہ رہے گی:

موت کتنی بھی سنگ دل ہو مگر
زندگی سے تو مہربان ہوگی