ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کا قیمتی موبائل فون برآمد ؛ایس پی انویسٹی گیشن خود موبائل دینے پہنچ گئے

وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کا قیمتی موبائل فون برآمد ؛ایس پی انویسٹی گیشن خود موبائل دینے پہنچ گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

وقاص احمد : وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کا قیمتی موبائل فون برآمد ہو گیا ، ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن نے قانونی تقاضوں کو بالا طاق رکھتے ہوئے  خود موبائل دینے وائس چانسلر کے دفتر پہنچ گئے جبکہ مدعی مقدمہ کوئی اور ہے ۔ موبائل خلاف قانون  وی سی کو لوٹایا گیا 

ایس پی انوسٹی گیشن پولیس ماڈل ٹاؤن ڈاکٹر ایاز حسین نے بتایا کہ انویسٹی گیشن  پولیس  نے ڈاکٹر محمد علی کا آئی فون برآمد کرکے واپس کر دیا ۔وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کا آئی فون 13 پرو میکس تنویر نامی ملزم نے چوری کر لیا تھا ۔وائس چانسلر کا موبائل فون ماڈل ٹاؤن میں  نماز جنازہ کی ادائیگی کے دوران چوری ہوا تھا ۔14 مارچ کو جامعہ المنتظر میں نماز جنازہ کے دوران وائس چانسلر کا موبائل فون چوری ہوا تھا ۔ واردات کا مقدمہ وائس چانسلر کے ملازم کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے ملزم تنویر کو گرفتار کرکے موبائل فون برآمد کیا ۔

ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن نے قانونی تقاضے بھی پورے نہ کیے ، انہوں نے موبائل سپرداری کی کارروائی کوبھی بالا طاق رکھتے ہوئے خود وائس چانسلر کے دفتر پہنچ کر موبائل واپس کیا ، حیرت کی بات یہ ہے کہ شہر میں سینکڑوں شہریوں کے موبائل فونز اور قیمتی اشیا برآمد کروانے میں ناکام رہنے والا ماڈل ٹاون سرکل لاہور کے کرائم چارٹ میں دوسرے نمبر پر ہے مگر  وائس چانسلر کا فون بھی فوری برآمد کروا لیا اور ایس پی کی پھرتی دیکھیے کہ موبائل فون  کی سپرداری کے لیے وائس چانسلر کو بلوایا بھی نہیں بلکہ خود  سپرد کرنے  ان کے دفتر پہنچ گئے ۔حالانکہ ایس پی  شہریوں کی املاک سپرد نہیں کرتا یہ انویسٹی گیشن ونگ کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔

سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ جو موبائل فون ایس پی انویسٹی گیشن نے  وی سی  کو دیا ہے اس کا مدعی بھی کوئی اور ہے ۔ ایف آئی آر بھی  وی سی کے نام سے نہیں بلکہ کلبل حسین کے نام سے ہے۔ جس کو  وی سی کا ملازم ظاہر کیا گیا ہے ۔ قانون تو یہ کہتاہے کہ  موبائل یا قیمتی اشیا کی سپرد داری مدعی  مقدمہ کو کی جانی چاہیے ۔ قانون کے رکھوالے ہی قانون توڑنے لگے ۔ ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ نے اپنا موبائل کھو جانے کا بیان ریکارڈ کروایا ہوا ہے ۔جبکہ ایس پی نے موبائل وی سی کو لوٹایا ہے ۔