سٹی42: وزیر اعلیٰ نے کمال کر ڈالا، کسی سے پوچھے بغیر اپنی مرضی سے کہیں بھی خرچ کرنے کے لئے اپنے فنڈز میں رکھی گئی رقم سے دس گنا زیادہ رقم خرچ کر ڈالی۔ تفریح، تحائف اور نام نہاد سیکرٹ سروس چارجز کے نام پر بھی بلا اجازت کئی سو ملین روپے اجاڑ ڈالے۔
وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈز میں 10 گنا اضافہ بجٹ 2025-2026 میں کیا گیا ہے۔ بجٹ جلد بازی سے منطور کروایا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ گزشتہ سال بجٹ میں اجازت دیئے گئے فنڈز سے دس گنا زیادہ خڑچ کی گئی رقم کو بھی "صوبائی اسمبلی کی منظوری کی مہر" لگا دی گئی۔ نئے سال کے بجٹ میں وزیر اعلیٰ کی صوابدیدی مرضی سے خڑچ کرنے کے لئے رکھی گئی رقم پچھلے سال کی نسبت دس گنا بڑھا دی گئی ہے۔
اس بجٹ پر صوبائی اسمبلی میں بحث ہوئی تو اپوزیشن کو زبردستی بحث میں سے نکال دیا گیا، اپوزیشن نے بجٹ میں درستگی کے لئے "کٹوتی کی تحریکیں" پیش کیں، سپیکر نے کسی قانون، ضابطے کی پرواہ کئے بغیر کٹوتی کی تمام تحریکوں پر بحث ہی کرنے کی اجازت نہیں دی، اکثریت کے زور پر تمام کتوتی کی تحریکوں کو مسترد کر دیا گیا اور بجٹ کو عجلت میں منظور کر لیا گیا۔
یہ کہانی پی ٹی آئی کی حکومت میں چلائے جا رہے واحد صوبہ خیبر پختونخوا کی ہے۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی بجٹ میں وزیراعلی کے صوابدیدی فنڈز میں گزشتہ سال سے دس گنا زیادہ فندز منظور کئے گئے۔
اب سامنے آنے والی تفصیل سے پتہ چل رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی ذاتی پسند سے بلا روک ٹوک خرچ کئے جانے والے فنڈز اس سال کے لئے 5 کروڑ روپے مقرر کئے گئے تھے، وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بلا اجازت 45 کروڑ روپے زیادہ خڑچ کر ڈالے۔ اب اسمبلی کو اس زائد خرچے کی منطوری دینا پری جو خاموشی سے لے لی گئی۔ اس کے ساتھ یہ کیا گیا کہ نئے سال کے بجٹ میں وزیراعلیٰ علی امین گنداپور کی ذاتی پسند سے کہین بھی خرچ کر دی جانے والی رقم کو گزشتہ سال سے دس گنا بڑھا دیا گیا اور اب وزیر اعلیٰ کو پانچ سو ملین روپے اپنی مرضی سے کہین بھی خرچ کر دینے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
صوابدیدی فنڈز کے متعلق کئی دہائیوں سے پبلک کو سخت اعتراض رہا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ حکمران صوابدیدی فنڈز کو سیاسی رشوت کے طور پر اور من پسند افراد کو نوازنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی دستاویز ک ئ مطالعہ سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ وزیراعلی علی امین نے 30 جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کے دوران صوابدیدی فنڈز کے نام پر 50 کروڑ خرچ کر ڈالے، علی امین کو صرف پانچ کروڑ روپے خرچ کرنے کی اجازت تھی۔ رواں مالی سال کے دوران وزیراعلی کے صوابدیدی فنڈ کے لئے فقط 5 کروڑ مختص کئے گئے تھے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق وزیراعلی نے صوابدیدی فنڈ کی مد میں عوام کے ٹیکسوں کی رقم سے 450 ملین روپے اجازت کے بغیر خرچ کیے جبکہ آئندہ مالی سال کے لئے وزیراعلی کے صوابدیدی فنڈز دس گنا بڑھا کر ان کو 500 ملین روپے اپنی مرضی سے کہیں بھی خرچ کر ڈالنے کی کھلی چھتی دے دی گئی ہے۔
تحفوں اور تفریح پر 110 ملین روپے اڑا دیئے
دستاویز کے مطابق رواں مالی سال کے دوران تحائف اور تفریح کی مد میں بھی 110 ملین روپے اڑا دیئے گئے جو بجٹ میں ملنے والی اجازت سے ڈھائی گنا زیادہ تھے، بجٹ میں تحفوں اور تفریح پر 35 ملین روپے اڑانے کی اجازت دی گئی تھی۔ علی امین نے 85 ملین روپے (8 کروڑ 50 لاکھ روپے) اجازت کے بغیر تحفوں اور تفریحوں پر اجاڑ دیئے۔
وزیراعلی کی تفریح اور تحفوں پر اڑانے کے لئے خیبر پختونخوا کے بجٹ میں اس نئے مالی سال کے لئے وزیراعلی ہاوس کے تحفوں اور تفریحوں کے بجٹ کا تخمینہ 35 ملین روپے (3 کروڑ 85 لاکھ) لگایا گیا ہے۔
سیکرٹ سروس چارجز میں 150 ملین روپے کا بلا اجازت اضافی اُجاڑا
وزیراعلیٰ علی امین گندا نے سیکرٹ سروس چارجز کی مد میں بھی 150 ملین روپے ( 15 کروڑ روپے)زائد خرچ کیے۔ اس مد مین خرچ کرنے کے لئے 50 ملین روپے (پانچ کروڑ )مختص تھے، رواں مالی سال کے بجٹ میں سیکرٹ سروس چارجز کی مد میں 200 ملین روپے ( 20 کروڑ ) خرچ ہوئے ہیں۔