سٹی42: پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) نے سولر سسٹم کنکشنز کی بلنگ کے طریقہ کار میں اچانک تبدیلی کرتے ہوئے اضافی بجلی بنانے والے صارفین کو ریلیف دینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پی پی ایم سی نے پہلے اضافی پینلز لگا کر بجلی پیدا کرنے والے صارفین کو ریلیف دینے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ دسمبر میں جاری ہونے والے مراسلے کے بعد صارفین کے ایکسپورٹ یونٹس کو صفر تصور کر کے ان کی بلنگ کی گئی اور ایکسپورٹ ہونے والی بجلی کی بنیاد پر بلنگ کرنے کی بجائے امپورٹ یونٹس پر بلنگ کی گئی۔
پی پی ایم سی نے ایم ڈی آئی (معاہدے) کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی بلنگ کا حکم جاری کیا، جس سے صارفین کو اضافی مالی بوجھ اٹھانا پڑا۔
دسمبر میں ریلیف پر پابندی کے بعد جنوری میں ایک اور مراسلہ جاری کیا گیا جس میں نئے قواعد کے تحت مشروط ڈی جی کیپسٹی کے تحت بلنگ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ نئے مراسلے میں واضح کیا گیا کہ معاہدے کے خلاف اضافی یونٹس پر ریلیف نہ دیا جائے، اور اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دسمبر میں معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ایکسپورٹ کا فائدہ نہیں دیا گیا تھا، جبکہ بلنگ کے معاملات نیپرا کے پاس ہیں اور پی پی ایم سی کا بلنگ سے تعلق نہیں ہے۔