ویب ڈیسک: پشاور کے عدالتی فیصلے میں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کیلئے اپ گریڈیشن سے متعلق واضح قانونی نکتہ طے کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اس نوعیت کے تمام زیرِ التوا مطالبات مسترد ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے ریٹائرڈ اساتذہ اور سول سرونٹس کی اپ گریڈیشن سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی قسم کی اپ گریڈیشن بطور حق حاصل نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اپ گریڈیشن صرف فعال ملازمین کیلئے ہوتی ہے۔
عدالتی ریمارکس میں کہا گیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپ گریڈیشن کا کوئی قانونی یا سرکاری پالیسی فریم ورک موجود نہیں، اس لیے ایسی درخواستیں قابلِ سماعت نہیں ہیں۔
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ریٹائرڈ ملازمین کو اپ گریڈیشن دی گئی تو اس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
ریٹائرڈ سول سرونٹس نے اپنی درخواست میں 10 سالہ سروس مکمل کرنے کے بعد گریڈ 17 میں اپ گریڈیشن کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے ان تمام درخواستوں کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔