ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جائیداد ہتھیانے کیلئےماں نے سگےبیٹے کو جان سے مارڈالا

جائیداد ہتھیانے کیلئےماں نے سگےبیٹے کو جان سے مارڈالا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عرفان ملک) سنگدل ماں کے ہاتھوں زندہ جلایا جانا والا بائیس سالہ نوجوان میو ہسپتال میں دم توڑ گیا ،ماں کہلوانے والی نے مکان ہتھیانے کیلئے بہن اور ایک پولیس اہلکار کی مدد سے سگےبیٹے کو ہی جان سے مارڈالا ۔

پولیس کے مطابق محمد عاصم کو اکیس مارچ کو اس کی ماں اور خالہ نے تیل چھڑک کر آگ لگا دی تھی ۔محمد عاصم کی والدہ نے اپنے خاوند سے ایک ماہ پہلے طلاق حاصل کر لی تھی،طلا ق لینے کے بعد عاصم کی والدہ فوزیہ بی بی اپنی بہن شازیہ کے پاس رہائش پذیر تھی ۔عاصم اکیس مارچ کو اپنی والدہ کو منانے کے لیے خالہ کے گھر گیا جہاں اس کو آگ لگا دی گئی ۔عاصم کے والد کا کہنا ہے کہ فوزیہ ایک پولیس اہلکار کی مدد سے اس کے بیٹے کو آگ لگانے میں کامیاب ہوئی۔پولیس اہلکار کو نہ تو گرفتار کیا جا رہا ہے اور نہ ہی مقدمہ درج کیا گیا ۔عاصم ہسپتال میں چار دن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلارہنےکےبعد دم توڑ گیا ۔ عاصم نےمرنے سے قبل پولیس کو بیان ریکارڈ کروایا تھا کہ اسکی جائیداد پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

دوسری جانب لاہور میں لاک ڈاؤن کے دوران بھی سٹریٹ کریمنلز نے خوف پھیلائے رکھا، جگہ جگہ ناکوں کے باوجود ڈاکووں نے تقریباً ایک ماہ کے عرصے میں مزاحمت پر تین افراد کو قتل کر دیا۔
لاک ڈاؤن کے دوران ڈکیتی مزاحمت پر قتل کا پہلا واقعہ شادباغ میں ہوا ۔ڈاکووں نے تاجر سے دس لاکھ روپے چھین لیے اور معمولی مزاحمت پر فائرنگ کرکے قتل کردیا۔دوسری واردات شاہدرہ میں ہوئی ۔ نامعلوم ملزمان نےڈیڑھ لاکھ روپے چھین کر نوجوان کی جان بھی لے لی ۔ڈکیتی مزاحمت پر قتل کی تیسری واردات لیاقت آباد میں ہوئی ۔ لوٹ مار کیلئےآنیوالےڈاکووں نےکیشیئرحافظ فاروق کو فائرنگ کرکےقتل کیا ۔
پولیس حکام کاکہناہےکہ حالیہ واقعات کاسراغ جلدلگالیاجائےگا۔ رمضان میں جرائم بڑھنےکےخدشات کےپیش نظر اہلکاروں کی تعیناتی کی جارہی ہے ۔
رواں سال کےدوران 117 افرادکومختلف واقعات میں قتل کیا گیا ۔ جن میں سے 9 افرادڈاکووں کے ہاتھوں موت کاشکار بنے۔ڈکیتی و راہزنی کی وارداتوں میں کروڑوں روپےبھی لوٹ لیےگئے۔

Malik Sultan Awan

Content Writer