طاہر جمیل:ڈیری فارمر ایسوسی ایشن اور دودھ فروش یونین کے درمیان شدید اختلافات کے باعث شہر میں دودھ کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ تاحال خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
ڈیری فارمر ایسوسی ایشن نے یکم نومبر سے دودھ کی قیمتوں میں 20 روپے فی لیٹر تک اضافے کا اعلان کیا ہے۔ فیصلے کے مطابق بھینس کے دودھ کی ہول سیل قیمت 20 روپے اضافے کے بعد 240 روپے، جبکہ گائے کے دودھ کی ہول سیل قیمت 15 روپے اضافے کے بعد 195 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اضافے کے بعد دودھ کا پرچون نرخ 270 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا امکان ہے، حالانکہ ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے جاری سرکاری نرخنامے میں دودھ کی قیمت 170 روپے فی لیٹر مقرر ہے , یعنی مارکیٹ اور سرکاری ریٹ میں 100 روپے فی لیٹر تک کا بڑا فرق سامنے آ گیا ہے۔
دوسری جانب دودھ فروش یونین نے اضافے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ یونین کا کہنا ہے کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو دودھ کی سپلائی بند کر دی جائے گی۔
دودھ فروشوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ شہریوں کو خدشہ ہے کہ تنازع برقرار رہا تو شہر میں دودھ کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔