خیبر پختونخوا اسمبلی نے صوبہ کا بجت منطور کیا تو یہ کسی کی توجہ کی خبر نہیں تھی لیکن ایک دن بعد یہ منظور ہو چکا بجٹ ایک تنازعہ بن گیا ہے۔
خیبر پختون خوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کی واضح اکثریت ہے، وہاں حکومت کا پیش کیا ہوا بجٹ اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود منظور ہونا ہی تھا، ہو گیا، لیکن ایک دن بعد اس بجٹ پر پی ٹی آئی کی قیادت نے لنگر لنگوٹ کس کر حملہ کر دیا اور اسے متنازعہ بنا دیا۔ بجٹ اتنا متنازعہ ہوا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنداپور کو کہنا پڑا کہ وہ منظور وہ چکے بجٹ میں تبدیلیاں لائیں گے۔
راتوں رات کیا ہوا
ہوا یہ کہ پختونخوا اسمبلی نے بجٹ اڈیالہ جیل میں بند بانی کا دستاویزات کو ہاتھ لگوائے بغیر ہی منطور کر لیا۔
ابتدا مین بانی نے جیل سے بیان بھیجا تھا کہ خیبر پختونخوا کے بجٹ میں کیا ہو گا، کیا نہین ہو گا، یہ وہ خود فیصلہ کریں گے، پی ٹی آئی کے سی ایم علی امین نے کہہ دیا تھا کہ وہ جیل جا کر بانی سے ہدایات لے کر بجٹ بنائین گے، اس کے بعد یہ ہوا کہ بجٹ بانی سے کوئی ہدایت ملے بغیر ہی بن گیا، اس بجٹ پر کئی دن بحث ہوئی اور پھر کل پیر کے روز یہ بجٹ منظور بھی ہو گیا لیکن علی امین نے بانی سے جیل جا کر ملاقات ہی نہیں کی۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی "منطوری" کے بغیر ہی بجٹ منظور کرلیا۔
نئے مالی سال کے لیے صوبائی بجٹ کی منظوری گزشتہ شب دی گئی۔ بجٹ کی منظوری سے قبل اپنی تقریر میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نےکہا تھا کہ بانی نے جو بھی ہدایت دی وہ اس کے مطابق منظور ہو چکے بجٹ مین تبدیلیاں کر کے دوبارہ اسمبلی سے منطوری لیں گے۔
صوبائی اسمبلی نے مالی سال 26-2025 کا جو بجٹ منظورکیا اس میں صوبہ کے 66 محکموں اور اداروں کے مطالبات زرکی مد میں 1962 ارب روپےکی منظوری دی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ اڈیالہ جیل میں گزشتہ دو سال سے بند بانی اور پی ٹی آئی کے جیل سے باہر کسی بھی رہنما کو خیبر پختونخوا کے تمام صوبائی محکموں کی ضروریات، ترجیحات کا کوئی خاص علم نہیں۔ یہ علم تو خود ڈیڑھ سال سے حکومت چلا رہے وزیروں کو بھی نہیں، وہ بھی اپنے محکموں کے بیوروکریٹس سے پوچھ پوچھ کر چلتے ہیں۔
آج اچانک تنازعہ پیدا ہو گیا جب پہلے پی ٹی آئی کے مرکزی لیڈروں نے اعتراض کئے کہ بجٹ بانی سے پوچھے بگیر پاس کیسے ہو گیا، یہ بجٹ کچھ دن بعد بھی پاس ہو سکتا تھا، اس کے بعد خود بانی نے جیل سے کسی ملاقاتی کے ذریعہ یہ بیان بھیج دیا کہ بجٹ ان کی منظوری کے بغیر پاس کیوں کیا گیا۔
اب پختونخوا کا جو بجٹ اپوزیشن کے اختلاف س اور اسے بحث مین شریک ہی نہ کرنے سے تو متنازعہ نہیں ہوا تھا وہ بانی اور ان کے مرکزی رہنماؤں کی مخالفت سے متنازعہ وہ گیا ہے۔
بانی کا "حتمی فیصلہ"
بانی نے کہا ہے کہ میری مشاورت کے بغیر کے پی کا بجٹ منظور نہیں ہونا چاہیے تھا، اب سپریم کورٹ جائیں، سپریم کورٹ سے اجازت لیں اور بجٹ میں وہ تبدیلیاں کرنی ہوں گی جو میں چاہوں گا۔ یہ میرا حتمی فیصلہ ہے۔
اڈیالہ جیل میں عمران خان سے عظمی اور نورین نیازی کی ملاقات ہوئی لیکن میڈیا کے نمائندوں سے بات علیمہ نے کی، علیمہ خان نے کہا عظمی اور نورین نیازی کی بانی سے ملاقات ہوئی مگر یہ مجھے نہیں جانے دیتے، بانی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا مشکل وقت میں عوام کی آواز بنا ہوا ہے۔ بانی نے کہا کہ انہوں نے بیرسٹر سیف کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ بجٹ اتنی جلدی کیوں پیش کیا گیا۔ بانی نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کو میرے پاس بہت پہلے آجانا چاہیے تھا۔
علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ پہلے 5 رکنی ٹیم میرے پاس مشاورت کےلئے آئے، اگر بجٹ پیش کر دیا ہے تو اب سپریم کورٹ جائیں اور سپریم کورٹ کو بتائیں کہ" آئی ایم ایف کیسے اس بجٹ کو قبول کرے گا", "پارٹی ہیڈ "کی مشاورت کے بغیر یہ بجٹ منظور نہیں ہونا چاہیے تھا، "اب سپریم کورٹ جائیں اجازت لیں، "... "وہی مشاورتی ٹیم میرے پاس آئے، میں دیکھوں گا جو تبدیلیاں کرنا پڑی گی۔"
علیمہ خان نے کہا کہ "بانی سرپلس بجٹ پر بالکل خوش نہیں تھے". بانی نے کہا، " آپ نے سرپلس کیوں دکھایا؟" یہ وفاقی حکومت کو فائدہ پہنچاتا ہے، اب عمران خان چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ سے اجازت لے کر تبدیلیاں لائیں۔ عمران خان جو تبدیلیاں کہیں گے وہ کرنا ہوں گی، یہ ان کا حتمی فیصلہ ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ وہ بجٹ قبول کرلیں جو بہت جلدی تین گھنٹے میں پاس کر دیا گیا۔
اپوزیشن کو بجٹ بحث سے نکال دیا لیکن بانی نکلنے پر تیار نہیں
خیبرپختونخوا اسمبلی نے اجلاس میں مجموعی طور 66 محکموں اور اداروں کے مطالبات زرکی مد میں 1962 ارب روپےکی منظوری دی۔
سپیکر کی جانب سے کٹوتی کی تحاریک نہ لینے پر اپوزیشن بجٹ منظوری کا حصہ نہیں بنی اور بجٹ منظوری کے وقت اپوزیشن ارکان اسمبلی نے ایوان سے بائیکاٹ کیا۔ سپیکر نے رائے شماری کے بعد تمام کٹوتی تحاریک کثرت رائے سے ختم کردیں۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 157 ارب روپے سرپلس رکھےگئے ہیں جب کہ بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرامز کے لیے547 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی مشاورت اور منظوری کے بغیر بجٹ پاس نہیں کیا جائےگا۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہم نئے مالی سال کا بجٹ پیش کرنے جارہے ہیں جس پر ہمیں اپنے لیڈر کی رہنمائی چاہیے، بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات واضح ہیں، وفاقی اور پنجاب حکومت مجھے اپنی فنانس ٹیم کے ساتھ لیڈر سے نہیں ملنے دے رہی۔