سٹی42: لاہور میں بسنت میلہ 6 سے 8 فروری تک منانے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ بسنت کو محفوظ اور منظم بنانے کے لیے کمشنر لاہور مریم خان کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکیورٹی، صفائی، ٹریفک اور عوامی تحفظ سے متعلق جامع اقدامات کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہر کو ریڈ، ییلو اور گرین زونز میں تقسیم کیا جائے گا، جبکہ اندرون شہر کی چھتوں کا پبلک بلڈنگ سیفٹی کے تحت سروے کیا جا رہا ہے۔ خطرناک قرار دی جانے والی چھتوں پر وارننگ نوٹس آویزاں کیے جائیں گے۔ کمشنر لاہور نے موٹر سائیکلوں پر فوری طور پر سیفٹی راڈ لگوانے کی ہدایت بھی جاری کی۔
کمشنر لاہور مریم خان نے ہدایت کی کہ والڈ سٹی، پبلک سیفٹی، لیسکو اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں فیلڈ میں متحرک رہیں اور تمام حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔ بسنت سے قبل ایل ڈبلیو ایم سی خصوصی صفائی مہم کا آغاز کرے گی جو بسنت کے اختتام تک جاری رہے گی۔
ضلعی انتظامیہ نے ڈی سی آفس لاہور میں بسنت کا مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بھی قائم کر دیا ہے، جبکہ شہر بھر میں روڈ سیفٹی کیمپس کے ذریعے موٹر سائیکل سواروں میں مفت سیفٹی راڈز تقسیم کی جا رہی ہیں۔ کمشنر لاہور نے واضح کیا کہ 6 فروری سے قبل ضلع لاہور میں پتنگ بازی کی قطعی اجازت نہیں ہو گی۔
اجلاس میں ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر فیصل کامران، ڈپٹی کمشنر لاہور علی اعجاز، ڈائریکٹر جاوید چوہان اور ڈی جی اندرون لاہور اتھارٹی نجم الثاقب نے شرکت کی۔
دوسری جانب بسنت کے موقع پر لاہوریوں کے لیے خوشخبری بھی سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق فروری کے پہلے ہفتے میں شہریوں کو ممکنہ طور پر چار دن کی چھٹیاں ملنے کا امکان ہے۔ 5 فروری کو یومِ کشمیر کی سرکاری چھٹی کے علاوہ ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات پہلے سے موجود ہیں، جبکہ جمعہ کی چھٹی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق اضافی چھٹیوں کا مقصد بسنت کو یادگار اور محفوظ بنانا ہے تاکہ ٹریفک کا دباؤ کم ہو اور سڑکوں پر موٹر سائیکلوں کی تعداد محدود رہے۔