ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چیمپئینز ٹرافی 2025 kے دو سیمی فائنلسٹ طے ہو گئے

Champions Trophy 2025, Pakistan vs Isndia, New Zealand , India, Group A Semi Finalists
کیپشن: چیمپئینز ٹرافی 2025 کے گروپ اے سے دو سیمی فائنلسٹ تو طے ہو گئے ہیں، گروپ بی سے دو سیمی فائنلسٹس کا سامنے آنا باقی ہے۔ ٹٹرافی نے اپنی یہ ہسٹری اس بار بھی برقرار رکھی کہ ترافی میزبان کے گھر نہیں رہتی۔ چیمپئینز ٹرافی 2025 کی فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

وسیم عظمت:  پاکستان کی میزبانی میں ہو رہی چیمپئینز ٹرافی2025 کے گروپ اے  میں پوائنٹس ٹیبل پر  نیوزی لینڈ آج کا میچ کھیلنے کے بعد ٹاپ پر آ گئی، انڈیا دوسرے نمبر پر ہے اور پاکستان  تھوڑے نیٹ رن ریٹ کی بدولت چوتھے نمبر پر ہے۔

راولپنڈی کے کرکٹ سٹیڈیم میں پیر کو نیوزی لینڈ نے  بنگلہ دیش کو پانچ وکٹوں سے شکست دی تو نیوزی لینڈ  سیمی فائنل میں بھی پہنچ گیا۔  بھارت پہلے ہی اپنا دوسرا میچ پاکستان سے جیت کر سیمی فائنل کے لئے کوالیفائی کر چکا ہے۔

گروپ اے میں ٹاپ ٹیم اس وقت تو نیوزی لینڈ ہے تاہم نیوزی لینڈ کو ابھی بھارت کے ساتھ ایک میچ کھیلنا ہے جس کی ہار جیت یہ بے کرے گی کہ گروپ اے کی ٹاپ ٹیم کون سی ہو گی۔

گروپ اے کی ٹاپ ٹیم کو گروپ بی کی دوسری ٹیم سے سیمی فائنل کھیلنا ہے اور  گروپ اے کی دوسری بہترین ٹیم کو گروپ بی کی ٹاپ ٹیم سے سیمی فائنل کھیلنا پرے گا۔

Caption گروپ اے کے سیمی فائنلسٹ کیوی بیٹر آج راولپنڈی میں بنگلہ دیش کے ساتھ میچ کے دوران

گروپ اے میں تمام چار ٹیمیں دو دو میچ کھیل چکی ہیں اور نیوزی لینڈ کو انڈیا ، پاکستان کو بنگلہ دیش سے میچ کھیلنا باقی ہے۔

Caption کیوی بیٹرز کا  چیمپئینز ٹرافی 2025 کے سیمی فائنل میں پہنچنے پر خوش ہونا بجا ہے.

اس کے برعکس گروپ بی میں ابھی تمام ٹیمیں ایک ایک ہی میچ کھیل پائی ہیں۔ 

گروپ بی میں ساؤتھ افریقہ اور آسٹریلیا اپنے میچ جیت کر بالترتیب پہلی اور دوسری پوزیشن پر ہیں۔ ساؤتھ افریقہ کا نیٹ رن ریٹ آسٹریلیا سے بہت بہتر ہے اس لئے وہ ٹاپ پر ہے۔

کل پیر کے روز آسٹریلیا اور ساؤتھ افریقہ کے میچ سے یہ طے ہو گا کہ دونوں میں سے کون کل سیمی فائنل کے لئے کوالیفائی کرے گی، ہارنے والی ٹیم کے لئے سیمی فائنل تک جانے کا چانس برقرار رہے گا جس کے لئے اسے اپنا آئندہ میچ جیتا ہو گا۔

آسٹریلیا کو کل کے میچ کے بعد جمعہ 28 فروری کو افغانستان سے میچ کھیلنا ہے جب کہ ساؤتھ افریقہ کو کل کے میچ کے بعد یکم مارچ کو انگلینڈ سے میچ کھیلنا ہے۔ 

اس دوران انگلینڈ کا دوسرا میچ افغانستان سے پرسوں بدھ کے روز ہو گا۔

اگر انگلینڈ اپنے دونوں میچ افغانستان اور ساؤتھ افریقہ سے جیت گیا تو وہ  سیمی فائنل کے لئے کوالیفائی کرنے کے لئے  کل کا ساؤتھ افریقہvsآسٹریلیا میچ ہارنے والی ٹیم کے مقابل ہو گا۔

 گروپ اے میں ٹاپ پوزیشن کے لیے 2 مارچ کو دبئی میں  انڈیاvsنیوزی لینڈ میچ کا نتیجہ کچھ بھی ہو شیڈول کے مطابق جس سیمی فائنل میں انڈیا کو کھیلنا ہے وہ 4 مارچ کو دبئی مین ہونا ہے اور دوسرا سیمی فائنل جس میں اب طے ہے کہ نیوزی لینڈ کھیلے گی، وہ 5 مارچ کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ہو گا۔

گروپ اے میں بنگلہ دیش اور پاکستان کا میچ  جمعرات 27 فروری کو راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں ہو رہا ہے۔اس میچ سے دونوں ٹیموں کو اپنے سٹیٹس بہتر کرنے کے سوا کچھ نہیں ملے گا تاہم راولپنڈی، اسلام آباد  کے شہریوں کو  براہ راست سٹیڈیم جا کر اور باقی فینز کو سپورٹس چینلز کے ذریعہ معیاری کرکٹ دیکھنے کو ملے گی اور پلئیرز کو ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔ جو کہ چیمپئینز ٹرافی کا اصل اوبجیکٹو ہے۔

چیمپئینز ٹرافی میزبان کے گھر کبھی نہیں رہی

 آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی 2025 میں گرین شرٹس نے سخت کوشش کی کہ وہ سیمی فائنل تک جائیں، وہاں سے جیت کر فائنل کھیلیں اور 2017 کی طرح سب کو پچھاڑ کر  ٹرافی کو گھر پر ہی رکھ لیں، پاکستانی فینز کی دعائییں اور خواہش بھی یہی تھی  لیکن ہسٹری کچھ اور ہے، پاکستان کی فتح کی راہ میں ہسٹری حائل ہو گئی۔ چیمپئینز ٹرافی نے اپنی روش اس مرتبہ بھی برقرار رکھی کہ کچھ بھی ہو جائے ترافی میزبان کے گھر نہیں رہے گی۔

چیمپئینز ٹرافی کی ہسٹری کا دلچسپ پہلو

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی فاتحین کی فہرست (1998-2025) اس ہسٹاریکل حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ جو ملک  چیمپئینز ٹرافی  کے ایونٹ کی میزبانی کرتا ہے وہ ٹرافی نہیں جیتتا۔
آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کرکٹ کی دنیا کا ایک باوقار ترین سمجھا جانے والا ایک روزہ بین الاقوامی ناک آؤٹ ٹورنامنٹ ہے جسے آئی سی سی نے 1998 میں متعارف کرایا تھا۔

 اس ٹورنامنٹ کو بعد میں آئی سی سی ناک آؤٹ ٹورنامنٹ کے نام سے جانا گیا۔  سنہ 2002 سے اس کا نام بدل کر آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی رکھ دیا گیا۔  چیمپئینز ٹرافی خاص الخاص اور باوقار ترین ایونٹ کیوں ہے اسے سمجھنے کے لئے اس کے فارمیٹ کو سمجھنا ضروری ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ تو اب درجنوں ملکوں میں کھیلی جا رہی ہے لیکن چیمپئینز ٹرافی میں مقابلے میں صرف ٹاپ 8 ٹیموں کو ہی شامل کیا جاتا ہے، اور یہ اصول 2009 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ آٹھ ٹیمیں ناک آؤٹ بنیاد پر کھیلتی ہیں اور صرف سوپر فِٹ ٹیمیں ہی آگے آتی ہیں۔

  

اب ہم 1998-2025 تک آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فاتحین کی فہرست پر سرسری نظر ڈالیں تو یہ سنسنی خیز انکشاف ہوتا ہے کہ ٹرافی جس ملک میں ہوئی اس ملک کو کبھی نہیں ملی۔

بنگلہ دیش نے چیمپئینز ٹرافی کے میچوں کی میزبانی کی تو ٹرافی ساؤتھ افریقہ نے جیتی۔

 کینیا نے چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی کی تو ٹرافی نیوی لینڈ کی ٹیم جیت کر لے گئی۔

چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی انگلینڈ کے حصے میں آئی تو ٹرافی ویسٹ انڈیز لے اڑا۔

 انڈیا کو چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی کا اعزاز ملا تو ٹرافی آسٹریلیا کے کیوی ہتھیا کر لے گئے۔

ساؤتھ افریقہ نے بڑے چاؤ سے چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی کی تو ٹرافی پھر آسٹریلیا کے کیویز کے ہی ہاتھ لگی۔

انگلینڈ اور ویلز نے مل کر چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی کی تو ٹرافی انڈیا پر عاشق ہو کر انڈینز کے ساتھ چلی گئی۔

2017 میں ایک بار پھر انگلینڈ اور  ویلز نے ٹرافی کی میزبانی کی تو ٹرافی پاکستان کے گرین شرٹش چھین لائے۔ 

 جب دو میزبان فائنل میں آئے تو   "ٹرافی کی ہسٹری"نے کیا کھیل کھیلا

تاریخ میں ایک بار ایسا ہوا کہ چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی دو ملکوں نے مل کر کی، دونوں ہی فائنل میں پہنچ گئے؛ اب ٹرافی کو کسی ایک میزبان ملک کے ہاں جانا تھا- پھر کیا ہوا؟ یہ ہوا کہ فائنل ہی نہیں ہوا، دنیا کی سب سے پریسٹیجئیس ٹرافی کا فائنل میچ ہی نہیں ہوا۔  ٹرافی نے اپنی مرضی دکھا دی کہ وہ میزبان کے ہاں نہین رہتی، نہین رہے گی۔ آئی سی سی نے جو ر جبردستی کی اور ٹرافی وک دونوں میزبان ملکوں میں آدھا آدھا بانٹ دیا لیکن فینز اب تک اس فائنل جیتے بغیر ملنے والی ترافی کو ٹرافی نہیں مانتے۔

پاکستانیوں کے ارمان اور بے رحم ہسٹری

اب پاکستان چیمپئینز ٹرافی 2025 کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس ٹرافی کے میچوں کے لئے پاکستان کرکت بورڈ نے تین سٹیڈیم تعمیرِ نو کر کے نئے کر دیئے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وکٹیں اور ہوم آڈئینس سب گرین شرٹس کو سپورٹ کر رہے ہیں، ایونٹ میں بہترین پرفارمنس دینے کے لئے کھلاڑیوں کو کم و بیش ایک سال سے تیار کیا جا رہا تھا، دستیاب لاٹ میں سے چن کر بہترین کو 15 کی ٹیم میں لایا گیا۔  ان میں سے جو سپر فٹ تھے وہ میچوں میں کھیلنے کے لئے بھیجے گئے، قوم دعائیں کرتی رہی، لیکن چیمپئینز ٹرافی کی ہسٹری کے آگے نہ گرین شرٹس کا بس چلا نہ ان کے دعا گو  فینز کا۔

پاکستان چیمپئینز ٹرافی کی ہسٹری کا چیلنج پورا نہین کر پایا

 ہسٹری میں مزید ایک ایویڈنس کا اضافہ ہو گیا ہے؛ چیمپئینز ٹرافی میزبانوں کے ہاتھ اب تک نہیں آئی۔

اس ہسٹری پر یقین کر لیں تو ہمیں یہ اطمنان ضرور ہو جائے گا کہ ہمارے ہاں ہونے  والی ٹرافی بھلے ہی ہمارے ہاتھ نہ آی لیکن 2029 مین انڈیا میں ہونے والی  چیمپئینز ٹرافی بھی انڈیا نہین رہے گی، ممکن ہے وہ ٹرافی پاکستانی گرین شرٹس چھین کر پاکستان لے آئیں۔ امید پر دنیا قائم ہے۔ 

چیمپئینز ٹرافی کی ہسٹری تو جو ہے سو ہے لیکن باعزم لوگوں کی بھی ایک ہسٹری ہے، وہ تاریخ کو بدل ڈالتے ہیں۔

چیمپئینز ٹرافی کے کچھ فیکٹس

چیمپئینز ٹرافی  پہلی بار بنگلہ دیش میں 1998 میں 'ولز انٹرنیشنل کپ' کے طور پر منعقد ہوئی تھی۔

 آسٹریلیا واحد ٹیم ہے جس نے دو بار آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتی۔ انہوں نے 2006 اور 2009 کے ایڈیشن میں یہ پریسٹیجئیس ٹورنامنٹ جیتا تھا۔

دو  چیمپئینز ٹرافی کے مالک آصٹریلیا نے خود کبھی چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی نہیں کی۔ نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز نے بھی ٹرافی تو جیتی لیکن کبھی اس کی میزبانی نہیں کی۔

 بارش نے فائنل کو 2002 میں ہونے سے روک دیا، جس کی وجہ سے بھارت اور سری لنکا  کو رسمی مشترکہ فاتح  ڈیکلئیر کیا گیا لیکن فینز نے دونوں کو ہی فاتح نہیں سمجھا کیونکہ فاتح وہی ہوتا ہے جو آٹھ میں خود کو بہترین منوا لے۔